تنخواہوں میں کٹوتی کے آرڈیننس کی اجرائی ڈکٹیٹرشپ کی نشانی

   

کے سی آر حکومت کا غیر دستوری اقدام، کانگریس پارٹی کا الزام
حیدرآباد۔ 18 جون (سیاست نیوز) سکریٹری اے آئی سی سی اور سابق رکن اسمبلی سی ایچ ومشی چند ریڈی نے حکومت کی جانب سے آرڈیننس کی اجرائی پر سخت تنقید کی جس کے ذریعہ تنخواہوں اور پنشن کو روکنے کے اختیارات حاصل کئے گئے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ومشی چند ریڈی نے کہا کہ آرڈیننس کے ذریعہ حکومت کو صورتحال بہتر ہونے تک ادائیگی روکنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ آرڈیننس کے نتیجہ میں ملازمین اور پنشنرس میں کئی اندیشے پیدا ہوچکے ہیں۔ حکومت گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں اور پنشن میں کٹوتی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی آڑ میں ملازمین سے ناانصافی کا اختیار حاصل کرنا ڈکٹریٹرشپ کی علامت ہے۔ حکومت اس فیصلے سے خود کو عدالت یا ٹربیونل سے بچنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں کی ادائیگی حکومت کی جانب سے کوئی بھیک نہیں ہے۔ جی او ایم ایس 27 مورخہ 30 مارچ کے ذریعہ حکومت نے تنخواہوں میں کٹوتی کا جو فیصلہ کیا ہے وہ دستور کی دفعہ 300 اے کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وبائی امراض سے متعلق قانون 1897 اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005ء میں تنخواہوں اور پنشن کو روکنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ومشی چند ریڈی نے آرڈیننس سے فوری دستبرداری اور مکمل تنخواہ و پنشن کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔