حیدرآباد ۔ یکم ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد کے مضافاتی علاقہ شمس آباد میں ایک 26 سالہ وٹرنری ڈاکٹر کی جھلسی ہوئی نعش برآمد ہونے کے بعد پولیس نے یہ انکشاف کیا کہ اس لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی اور پھر اسے زندہ جلادیا گیا۔ اس انسانیت سوز واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ گورنمنٹ ہاسپٹل میں اسسٹنٹ سرجن وٹرنری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی پرینکا ریڈی کی اجتماعی عصمت ریزی اور بہیمانہ قتل کے سلسلہ میں پولیس نے چار ملزمین عارف (26 سالہ)، جولوشیوا (20 سالہ)، نوین (20 سالہ) اور چنتا کنٹہ چنا کیشولو کو گرفتار کرلیا اور اس سلسلہ میں سی سی ٹی وی کیمروں کا بھرپور استعمال کیا۔ مذکورہ تمام ملزمین کا تعلق ضلع نارائن پیٹ سے ہے۔ اس واقعہ نے صرف ریاست تلنگانہ میں ہی برہمی کی لہر نہیں دوڑائی بلکہ سارے ملک میں اس پر تشویش و برہمی کا اظہار کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر بھی عوام نے اپنی برہمی ظاہر کی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض عناصر نے جو ہر واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے میں سب سے آگے ہیں۔ حقائق جانے بناء پرینکا ریڈی کی عصمت ریزی و قتل کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اس معاملہ میں حلقہ اسمبلی گوشہ محل کے بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ سب سے آگے ہیں۔ ویسے بھی وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے بیانات جاری کرنے کے لئے بدنام ہیں۔ انہوںنے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا اور اس ویڈیو میں شرانگیزی کی حد کرتے ہوئے اس طرح کے جملے ادا کئے جو کسی بھی طرح ہمارے معاشرہ میں برداشت نہیں کئے جاسکتے۔ اس نے کہا کہ اسے توقع تھی کہ اس واقعہ میں کسی مسلمان کا نام آئے گا۔ لیکن ہر چیز کو فرقہ پرستی کی عینک سے دیکھنے والے راجہ سنگھ یہ بھول گئے کہ اس مقدمہ میں جو ملزمین گرفتار ہوئے ان میں تین ہندو بھی ہیں اور پولیس نے غیر معمولی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاروں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی۔ عام لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ راجہ سنگھ کو اس طرح کے ویڈیوز جاری کرنے سے قبل حقائق کا پتہ چلانا چاہئے تھا لیکن اس نے حسب عادت اپنا منہ کھولا۔ پولیس کے مطابق شیوا نے خاتون وٹرنری ڈاکٹر کو اس کی اسکوٹی کا پنکچر بنانے کی پیشکشی کی جبکہ کلیدی ملزم عارف، نوین اور چنا کیشولو اس لڑکی کو ٹول پلازا کے قریب ایک سنسان مقام پر کمرہ میں لے گئے اور عصمت ریزی کی حقائق کا پتہ چلا کر حقیقت سے عوام کو واقف کرانے والی ویب سائٹ بوم لائیو سے بات چیت کرتے ہوئے سائبرآباد پولیس نے واضح طور پر اس واقعہ میں کسی بھی فرقہ وارانہ زاویہ کی تردید کی اور ایک اعلیٰ عہدہ دار نے یہاں تک کہا ’’ملزمین کی فہرست میں تین ہندو اور ایک مسلمان شامل ہے۔ ایسے میں آپ مجھے بتائیے کہ یہ کیسے فرقہ وارانہ واقعہ ہوسکتا ہے‘‘۔ ایک ایسے وقت جبکہ تحقیقات جاری ہیں صرف راجہ سنگھ ہی نہیں بلکہ دوسرے چند عناصر نے بھی واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی۔ ایسے ہی لوگوں میں سریش چوہانکے بھی شامل ہیں جو سدرشن نیوز سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے راجہ سنگھ سے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے پولیس کارروائی پر ہی سوال اٹھا دیا۔ سریش نے مرکزی حکومت سے اس بات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ وہ اس امر کی تحقیقات کرے کہ آیا دیگر تین ملزمین کو دباو میں تو گرفتار نہیں کیا گیا۔ سریش کے مطابق ’’میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا دوسرے تین ملزمین کو اس کیس میں ایک مسلم شخص کی گرفتاری کا توازن برقرار رکھنے کے لئے تو گرفتار نہیں کیا گیا۔ میں جی کشن ریڈی سے اس سارے معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔ بہرحال راجہ سنگھ جیسا سیاستداں ہو یا سریش چوہانکے جیسے لوگ ان کی اس طرح کی اشتعال انگیزی سے معاشرہ کو نقصان پہنچتا ہے اس لئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ ایسے سیاستدانوں اور عناصر پر تھو ہے۔