مکیش سہنی ڈپٹی چیف منسٹر ہونگے ‘پریس کانفرنس میں اشوک گہلوت کا اعلان، 20 ماہ میں تبدیلی کا دعویٰ
پٹنہ۔23؍اکتوبر ( ایجنسیز )بہار اسمبلی انتخابات سے قبل مہاگٹھ بندھن نے آخرکار چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹرٰ کے چہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ کانگریس کے سینئر قائد اشوک گہلوت نے جمعرات کو پٹنہ میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران تیجسوی یادو کو چیف منسٹر اور مکیش سہنی کو ڈپٹی چیف منسٹرکے امیدوار کے طور پر پیش کیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی عظیم اتحاد کے اندر اختلافات کی افواہوں پر لگام لگ گئی ہے۔ پریس کانفرنس میں آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو، کانگریس کے اشوک گہلوت، پون کھیڑا، وی آئی پی (وکاس شیل انسان پارٹی) کے مکیش سہنی سمیت کئی اتحادی جماعتوں کے قائدین موجود تھے۔ اشوک گہلوت نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے سبھی پارٹیوں سے مشورہ کرنے کے بعد طے کیا ہے کہ اس بار کے انتخابات میں تیجسوی یادو مہاگٹھ بندھن کے چیف منسٹر کے امیدوار ہوں گے جبکہ مکیش سہنی ڈپٹی چیف منسٹرکے چہرے کے طور پر انتخابی میدان میں اتریں گے۔تیجسوی یادو نے اس موقع پر کہاکہ ہم سب کا مقصد بہار کو بہتر بنانا ہے۔ ہم اپنے والد لالو پرساد یادو، سونیا گاندھی، راہول گاندھی، پرینکا گاندھی اور تمام اتحادی ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہم پر اعتماد ظاہر کیا۔ ہم اس اعتماد پر پورا اتریں گے۔گہلوت نے پریس کانفرنس میں کہاکہ ملک کے حالات تشویشناک ہیں۔ بے روزگاری، کسانوں کی مشکلات اور عام آدمی کی پریشانیوں نے عوام کو تبدیلی کی راہ پر سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ عوام اب ایک نئے بہار کی توقع کر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اس بار تبدیلی ضرور آئے گی۔قبل ازیں کانگریس، آر جے ڈی، وی آئی پی اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان سیٹ تقسیم پر طویل بات چیت ہوئی کیونکہ متعدد نشستوں پر اتحادی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف امیدوار کھڑا کر چکی تھیں۔ تاہم تازہ اجلاس کے بعد یہ تنازعات بھی بڑی حد تک ختم ہو گئے ہیں۔دوسری جانب بی جے پی نے اس اعلان پر طنز کستے ہوئے کہا کہ مہاگٹھ بندھن کے اندرونی اختلافات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ اس تمام سیاسی ہلچل کے درمیان مہاگٹھ بندھن کی انتخابی مہم ’تیجسوی سرکار‘ کے نعرے کے ساتھ تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے جبکہ آر جے ڈی کے قریبی ذرائع کے مطابق اب تمام اتحادی جماعتوں کے بینر تلے ایک مشترکہ منشور بھی جلد پیش کیا جائے گا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ انہیں پانچ سال نہیں بلکہ 20 مہینے دیجئے۔ ان کے مطابق یہ مختصر عرصہ ان کے وعدے پورے کرنے کیلئے کافی ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر عوام انہیں 20 مہینے کا موقع دیں تو وہ اسی مدت میں وہ تمام کام کردیں گے جو پچھلی 20 سال کی حکومتیں نہیں کرپائیں۔