تیز موسیقی سے اموات

   

کیا ہوتا ہے آواز جب شور میں تبدیل ہوجائے

امجد خان
کیا آپ کو پتہ ہے کہ تیز اور زیادہ شور کے ساتھ جو موسیقی بجائی جاتی ہے یا کوئی موسیقی ریز پروگرام میں ڈی جے بجاکر شور شرابہ کیا جاتا ہے یا پھر آواز کی مقررہ حد سے زیادہ آواز آپ کے کانوں سے ٹکراتی ہے تو اس کے کتنے بھیانک نتائج برآمد ہوتے ہیں؟ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ آواز کی ایک حد ہوتی ہے، ایک پیمانہ ہوتا ہے، اگر آواز اس حد سے پار کرجائے تو وہ شور میں تبدیل ہوجاتی ہے اور شور انسان کی صحت پر خطرناک اثرات مرتب کرتا ہے۔ انسان کی قوت سماعت متاثر کرسکتا ہے اور اس شور کے نتیجہ میں انسان کی موت تک واقعہ ہوسکتی ہے۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہمارے جسم و جسمانی خلیوں کی صحت اور آواز کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آواز کی حد 432 ہرٹز سے زیادہ ہوجاتی ہے تو اس کا اثر جسم اور خلیوں کے کام پر پڑتا ہے اور دونوں کی صحت بھی متاثر ہوجاتی ہے۔ واضح رہے کہ ایک اوسط انسانی جسم میں خلیوں کی تعداد تقریباً 37.2 کھرب ہوتی ہے۔ تاہم ان خلیوں کی تعداد کا انحصار جنس، عمر، قد اور جسمانی وزن پر بھی ہوتا ہے۔ حال ہی میں کی گئی ایک اسٹڈی کے مطابق ایک مرد کے جسم میں 36 کھرب انسانی خلیے ہوتے ہیں جبکہ عورت کے جسم میں ان خلیوں کی تعداد 28 کھرب تک ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی جسم میں جتنے انسانی خلیے ہوتے ہیں ایک اندازہ کے مطابق اتنی ہی تعداد میں Non Human Cells جیسے بیکٹریا وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ انسانی جسم میں 200 سے زیادہ اقسام کے خلیے ہوتے ہیں جیسے RBC، WBC ریڈ بلڈ سیلس، Skin Cells، نیورانس Nerve Cells اور فیاٹ سیلس وغیرہ۔ جہاں تک ان خلیوں کی تعداد کا سوال ہے، انسانی دماغ میں ان کی تعداد 171 ارب ہوتی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ خلیے جسم کو ساخت اور سپورٹ فراہم کرتے ہیں اور انسانی جسم کے Growth کو یقینی بناتے ہیں اور Reproduction میں مدد کرتے ہیں۔ جسم کو خلیے توانائی فراہم کرتے ہیں لیکن انسانی زندگی اور اس کی بقاء کے لئے اہم ترین کردار ادا کرنے والے خلیے شور سے تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ یعنی صوتی آلودگی ان خلیوں کو تباہ کرکے رکھ دیتی ہے۔ اسی لئے ماہرین اور عالمی اداروں نے آواز کو چاہے وہ موسیقی ہو یا آواز کے دوسرے ذرائع ان سب کی حد مقرر کر رکھی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو موسیقی کی فطری طور پر جو ہم آہنگ گونج ہے وہ 432 ہرٹز ہے لیکن 19 ویں صدی میں کئے گئے معاہدہ کے تحت اسے 432 ہرٹز سے بدل کر موجودہ 440 ہرٹز پر لے آئے جسے شعور کو دبانے والی فریکوینسی قرار دیا جاتا ہے۔ ویسے بھی انسانی ڈی این اے کے لئے ضروری ہے کہ وہ 432 ہرٹز کی فریکونسی کے ساتھ ہم آہنگ ہو تاکہ انسانی جسم اور خلیے یا سیلس معمول کے مطابق کام کریں اور صحتمند رہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ موجودہ 440 ہرٹز کی موسیقی ایک جامع ارتعاشی کیفیت رکھتی ہے جو ہمارے ڈی این اے اور خلیاتی رابطے پر منفی اثر مرتب کرتی ہے جس کے نتیجہ میں کئی ایک جسمانی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ آپ کو یہ بتانا مقصد ہے کہ 440 ہرٹز کی موسیقی دراصل انسانیت پر ایک دانستہ حملہ ہے۔ آپ کو یہ بھی بتادیں کہ یو ٹیوب پر موجودہ موسیقی خود کار طور پر 440 ہرٹز میں تبدیل کردی جاتی ہے چاہے وہ اصل میں 432 ہرٹز میں اپ لوڈ کی گئی ہو۔ یو ٹیوب کا سسٹم اُسے خود بخود شعور کو دبانے والی 440 ہرٹز فریکوینسی میں تبدیل کردیتا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کان کے اندرونی حصہ میں جو بال ہوتے ہیں ان کے انتہائی نازک خلیے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ ڈی جے وغیرہ سے کان بجنے، سر میں درد، کانوں کی SENSITIVITY بڑھ جانے اور ہارٹ اٹیک ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں بالفاظ دیگر شور سے کم از کم 10 بیماریوں کا انسان شکار ہوجاتا ہے۔ اکثر آپ نے شادیوں کی بارات میں یا پھر مذہبی جلوسوں کے موقع پر دیکھا ہوگا کہ ڈی جے بڑی زور سے بج رہا ہے اور نوجوان ناچتے ناچتے گرجاتے ہیں اور پھر دوبارہ اُٹھ نہیں پاتے۔ اصل میں تیز آواز کے نتیجہ میں وہ ہارٹ اٹیک کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ بعض ایسے واقعات بھی مشاہدہ میں آئے جہاں بارات میں بیانڈ باجے ڈی جے اور آتشبازی سے دولہے کی حالت بگڑ گئی اور وہ گھوڑی پر ہی Cardiac Arrest کے نتیجہ میں فوت ہوگئے۔