تیسری لہر میں 18 لاکھ افراد متاثر ہوسکتے ہیں

   

آندھراپردیش محکمہ صحت کی رپورٹ ، چار لاکھ سے زائد بچے متاثر ہوں گے، تیسری لہر غیر مہلک ثابت ہوگی
حیدرآباد: کورونا کی امکانی تیسری لہر سے نمٹنے کی تیاریوں کے سلسلہ میں آندھراپردیش حکومت کے اندازہ کے مطابق 18 لاکھ افراد تیسری لہر میں متاثر ہوسکتے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے قائم کردہ ٹاسک فورس نے اس سلسلہ میں حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے۔ رپورٹ میں کورونا کی تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق تیسری لہر میں تقریباً 4.5 لاکھ بچے متاثر ہوسکتے ہیں جو مجموعی کیسیس کا 25 فیصد ہوں گے ۔ کورونا سے متاثر ہونے والے بچوں کی عمر 18 سال سے کم رہے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیسری لہر زیادہ مہلک ثابت نہیں ہوگی ، لہذا صرف 45,000 بچوں کو علاج کے لئے دواخانوں میں شریک کرنے کی ضرورت پڑے گی ۔ 90 فیصد کیسیس میں علاج گھر پر کیا جاسکے گا ۔ کمیٹی نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ بچوں کیلئے 2750 بستروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے جبکہ آئی سی یو کے ایک ہزار اور وینٹی لیٹر سے مربوط 700 بستر تیار رکھے جائیں۔ ٹاسک فورس کے صدرنشین ڈاکٹر بی چندر شیکھر ریڈی کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت نے تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے تمام ضلع حکام کو پہلے ہی چوکس کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی قطعی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ بچے زیادہ متاثر ہوں گے یا بالغ افراد ۔ تیسری لہر کے اثرات 6 ماہ تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ وائرس کی سنگینی کے بارے میں بھی سائنسداں ابھی تجربات میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش میں دوسری لہر سے بہتر انداز میں نمٹا گیا جس کے نتیجہ میں کورونا کیسیس میں قابل لحاظ کمی واقع ہوئی ہے۔