ریاض: ترکیہ نے کہا ہے کہ یورپ کے لیے توانائی کے مرکز کے قیام کی غرض سے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری کے خواہاں ہیں، ترکیہ تیل یا گیس کی ترسیل کے لیے انرجی کوریڈور ہے۔وزیر خزانہ نورالدین نباتی نے سعودی میڈیاانٹرویو میں کہا کہ ترکیہ اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے روس، ایران اور سعودی عرب سے ترسیل ہونے والے تیل یا گیس کے لیے انرجی کوریڈور ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ کے راستے قدرتی گیس یا تیل کی شپنگ پر کم لاگت آئے گی اور زیادہ محفوظ انداز میں ہو سکے گی۔ریاض میں چھٹے فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو فورم کے موقع پر گفتگو میں وزیر خزانہ نے کہا ترکی اور سعودی عرب بھی ایک دوسرے کی معاونت کر رہے ہیں جس سے خطے میں امن آئے گا۔ امن سے گیس اور توانائی کی قیمتوں میں کمی واقع ہو سکے گی اور دونوں ممالک مستقبل کا تعین کر سکیں گے۔سعودی عرب دنیا بھر میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ گیس کے پانچویں بڑے ذخائر ہیں۔ سعودی عرب کے گیس کے ذخائر 300 کھرب کیوبک فٹ ہیں تاہم یہ دیگر ممالک کو گیس برآمد نہیں کرتا اور تیل پر انحصار کم سے کم کرنے کی غرض سے گیس کی پیداوار بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ترک وزیر خزانہ نے ان خیالات کا اظہار صدر رجب طیب اردوغان کے بیان کے بعد کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ترکی کو گیس کا مرکز بنانے کے لیے روسی ہم منصب کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔ نورالدین نباتی نے کہا کہ یورپ کا انحصار روس کی گیس پر ہے اور ان کی سردیاں پریشانی میں گزریں گی لہذا نئے اقدامات کی ضرورت ہے۔اسی لیے ہمارے صدر نے کہا کہ ترکی جو مرکز بننے جا رہا ہے، اسے ایرانی یا روسی گیس کی تقسیم کیلئے ضروری اقدامات کرنے چاہیے۔ اس سے خطے میں امن آئے گا۔