تین خاتون آئی پی ایس والدین کی خواہش کے مطابق تربیت حاصل کرنے میں کامیاب

   

حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تین خاتون آئی پی ایس افسران جنہوں نے اپنے والدین کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے کامیابی کے ساتھ انڈین پولیس سرویسز میں کامیابی حاصل کی ۔ تینوں افسران کو خوشی ہے کہ وہ اپنے والدین کے خواب کو پورا کیا ۔ نیشنل پولیس اکیڈیمی میں کامیابی کے ساتھ اپنی تربیت مکمل کرنے والے 174 میں سے 77 ریگولر ریکروٹس بیاچ کے آئی پی ایس افسران نے پاسنگ آوٹ پریڈ میں چارج حاصل کیا ۔ ایک خاتون آئی پی ایس افسر جیاشرما نے کہا کہ میں آئی پی ایس افسر بنی جس میں 100 فیصد میری ماں ذمہ دار ہے جب بھی میں تکلیف یا پریشانی میں ہوتی تو میری ماں نے ہی مجھے ہمت دی ۔ میری ماں نیتو شرما نے حوصلہ دیا اوثر میرے والد پرمود کمار شرما ڈسٹرکٹ فوڈ سپلائی کنٹرولر کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ میری ماں گھر پر ہی رہتی ہے میں نے دہلی یونیورسٹی سے بی ایس سی ( ریاضی ) ، آئی آئی ٹی دہلی سے ایم ایس سی ( ریاضی ) مکمل کیا ۔ مجھے بچپن سے ہی آئی پی ایس بننے کی خواہش تھی ۔ ماں باپ کی حوصلہ افزائی سے ہی میں نے آج یہ مقام حاصل کیا ہے۔ میں نے تین مرتبہ سیولس کے لیے امتحان دیا اور تینوں مرتبہ ناکامی ہوئی لیکن میری ماں نے میری ہمت بڑھائی اور آج میں اس مقام تک پہنچ چکی ہوں ۔ ایک اور آئی پی ایس ایس اشونی نے بتایا کہ میرا آبائی مقام تامل ناڈو ہے میرے والد ایک بس کنڈاکٹر تھے ۔ جو حال ہی میں ریٹائر ہوئے ۔ میری والدہ گھر پر ہی رہتی ہے ۔ میں نے الکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن سے انجینئرنگ مکمل کی ۔ اس کے بعد تاملناڈو میں اسٹیٹ جی ایس ٹی محکمہ میں اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے کام کیا ۔ لیکن میرے والد کی خواہش تھی کہ میں آئی پی ایس بنو ۔ جس کے بعد میں نے سیولس کا امتحان دیا اور پانچویں مرتبہ مجھے کامیابی حاصل ہوئی ۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ آئی پی ایس بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو زندگی کی ہر مصیبت اور پریشانی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ۔ آخر کار کامیابی آپ کے پاس آہی جائے گی ۔ ایک اور خاتون آئی پی ایس افسر کیرتی یادو نے کہا کہ میرے والدین ایرمین کی حیثیت سے ایرپورٹ میں کام کرتے ہوئے ریٹائرڈ ہوئے ۔ بچپن سے ہی میرے والد کو یونیفارم میں دیکھتے ہوئے مجھے بھی خواہش ہوئی کہ میں بھی یونیفارم پہنوں ۔ کالج کے دور میں مجھے خیال آیا کہ میں آئی پی ایس بنو اور عوام کی خدمت کروں ۔ کولکتہ سے گریجویشن مکمل کیا اور سی آئی ایس ایف میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ کی حیثیت سے منتخب ہوئی ۔ 2020 میں ٹریننگ کے ساتھ سیول کی تیاری شروع کردی تھی ۔ جس کے بعد انڈین فارسٹ سرویس میں منتخب ہونے کے باوجود سیول کی تیاری جاری رکھی ۔ چوتھی مرتبہ کی کوشش میں مجھے آئی پی ایس حاصل ہوا ۔ تلنگانہ پولیس کے مہیش بھگوت سے مجھے تحریک ملی ۔ میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کروں گی ۔۔ ش