تین طلاق بل : مسلم خاندانی نظام کو برباد کرنے کی سازش

,

   

Ferty9 Clinic

باحجاب مسلم خواتین کو سڑک پر لانے کی ذہنیت آشکار ۔نئی نسل کا اسلامی احکام سے واقف ہونا ضروری
حیدرآباد۔3۔اگسٹ(سیاست نیوز) امت مسلمہ کی لاپرواہی و عدم دلچسپی سے طلاق ثلاثہ پر پابندی کا قانون وجود میں آچکا ہے لیکن اس قانون کا مقصد کیا ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مرکزی حکومت نے مسلمانوں کے آپسی اختلافی مسائل کو چھیڑ کر شریعت میں مداخلت کی کامیاب کوشش کی ہے لیکن جیسے کہا جاتا ہے ہر قانون بنتا ہی ہے توڑنے کیلئے تو ہر قانو ن کے سلسلہ میں یہ نہیں کہا جاسکتا لیکن اس قانون کی تیاری کے دوران جو درپردہ مقاصد رہے ہیں وہ مسلم خواتین کو ان کا حق دلانے نہیں بلکہ انہیں سڑک پر لانے کی کوشش ہے۔ طلاق ثلاثہ قانون کے مطابق اگر کوئی شوہر غصہ میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہے اور بیوی پولیس سے رجوع ہوتی ہے تو مرد کے خلاف ناقابل ضمانت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے ۔ قانون نے شکایت کنندہ پر یہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ اپنے شوہر پر لگائے گئے الزام کو ثابت کرے یعنی یہ بات ثابت کرے کہ شوہر نے اسے تین طلاق دی ہیں اور اگر عورت یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو شوہر کو تین سال کی سزاء ہوگی لیکن اس نئے قانون اور سپریم کورٹ کے احکام کے مطابق تین طلاق کہنے سے بھی شوہر اور بیوی کے درمیان طلاق واقع نہیں ہوگی بلکہ شوہر جس جرم کیلئے جیل گیا ہے وہ جرم اس نے کیا ہی نہیں اور جرم کے ارتکاب کے بغیر سزاء بھگتنے پر مجبور ہے۔ شوہر کو تین سال کیلئے جیل بھیجنے والی خاتون اپنے شوہر کو جیل بھیجنے کے بعد رہیگی کہاں!شوہر کے مکان میں سسرالی رشتہ دار اس خاتون کو تو رہنے نہیں دیں گے جس نے انکے لڑکے کو جیل بھیجا ہے۔ لڑکے کی جانب سے مفاہمت کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی

کیونکہ تین طلاق کے بعد رجوع کی کوئی سبیل نہیں رہ جاتی اور جب جیل پہنچ چکا تو سوال ہی نہیں ہوتا ۔ جیل گئے شوہر کی جانب سے قانون کے مطابق بیوی کو طلاق دینے اقدامات کئے جائینگے اور وہ دوسرے طریقہ سے بیوی کو طلاق دیگا جس نے اسے جیل بھیجا تھا ایسی صورت میں صلح کی جو گنجائش ہوا کرتی تھی وہ ختم ہوجائے گی ۔ مسلم معاشرہ میں طلاق یا علحدگی کو ئی بخوشی اختیار کیا جانے والا عمل نہیں ہے بلکہ غصہ اور برہمی میں طلاق دی جاتی ہے اور اکثر معاملات میں طلاق کے بعد رجوع کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں اور یہی وہ کمزوری ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ قانون بنایا گیا ہے ۔ اب جبکہ قانون سازی ہوچکی ہے تو ان حالات سے نمٹنے یہ ضروری ہے کہ امت مسلمہ ان حالات کو پیدا ہونے دینے سے اجتناب کرے جو اس قانون کے شکنجہ میں پھنسنے کا موجب بنتے ہیں۔ نکاح سے قبل لڑکا اور لڑکی کو اچھی طرح سے اس بات سے واقف کروایاجائے کہ دین نے حقوق زوجیت کے متعلق کیا احکام دیئے ہیں ۔ طلاق کے متعلق قرآن کے کیا احکام ہیں اور طلاق کو کیوں اسلام میں جائز ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے ۔ اسلام نے نباہ کیلئے کیا طریقہ بتائے ہیں ۔ ملک میں طلاق ثلاثہ پر پابندی کے قانون کے نفاذ میں عجلت اور اسے مسلم خواتین کیلئے نعمت قرار دینے والی قوتیں اپنے ہر عمل سے مسلم دشمن ثابت ہوچکی ہیں وہ مسلم خواتین کی بہتری کرہی نہیں سکتیں اسی لئے ان خواتین کو اس بات کو سمجھنا چاہئے اور ان قوتوں کو ناکام بنانے حکمت و عقل مندی کا مظاہرہ کرکے اپنے عائلی معاملات کو اپنے خاندان اور ذمہ دار عمائدین و علماء سے رجوع کرکے حل کرنے چاہئے۔ طلاق ثلاثہ کے نام پر اگر ملک میں مقدمات کے چلن میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ امت مسلمہ کا مذاق نہیں بلکہ عورت کی توہین کی راہ ہموار کریگا کیونکہ جو شوہر جیل جائے گا وہ شکایت کنندہ کو دوبارہ کسی صورت میں نہیں اپنائے گا اسی لئے ان معاملات کو قانونی رسہ کشی کا شکار بنانے کے بجائے ان کی یکسوئی دانشمندی کے ساتھ کی جانی چاہئے ۔