آج دفتر فنی تعلیم کے روبرو احتجاج، اساتذہ گزارے کیلئے مقروض
حیدرآباد: آل انڈیا کونسل آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کی جانب سے خانگی انجنیئرنگ کالجس اور ٹیکنیکل اداروں کو اساتذہ کو تنخواہ کی ادائیگی کی ہدایت کے باوجود گزشتہ تین ماہ سے کئی کالجس کے اساتذہ اور ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں۔ کالجس کے اساتذہ لاک ڈاؤن اور تنخواہوں سے محرومی کے نتیجہ میں قرض حاصل کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں ۔ کالج انتظامیہ کے رویہ سے ناراض ہوکر اساتذہ کی تنظیموں نے بروز منگل 14 جولائی کو احتجاج منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کونسل آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے اپنے احکامات میں تمام سرکاری ، خانگی اداروں کو ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کی ہدایت دی جن میں کنٹراکٹ اور آؤٹ سورسنگ ملازمین شامل ہیں ۔ کونسل میں انتباہ دیا کہ اگر احکامات کی خلاف ورزی کی گئی تو سخت کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ تلنگانہ اسکول ، ٹیکنیکل کالجس ، ایمپلائیز اسوسی ایشن نے تنخواہوں کی اجرائی کے لئے محکمہ فنی تعلیم کے دفتر کے روبرو احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔ جے این ٹی یو اور دیگر حکام کو اس سلسلہ میں نمائندگی کی گئی تھی لیکن تنخواہوں کی اجرائی نہیں ہوئی ۔ اسوسی ایشن کے صدر نے بتایا کہ یونیورسٹی اور دیگر حکام کو تنخواہوں کی عدم اجرائی اور بعض کالجس کی جانب سے معمولی تنخواہ دیئے جانے کی شکایت کی گئی۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ کالجس کا انتظامیہ ٹیوشن فیس اور امتحانی فیس حاصل کر رہا ہے لیکن تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے تیار نہیں ۔ مارچ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ۔ محکمہ فنی تعلیم کی جانب سے بعض کالجس کو وجہ نمائی نوٹس جاری کی گئی ہے۔ کالجس کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فیس باز ادائیگی اسکیم روک دیئے جانے کے سبب وہ مالی بحران کا شکار ہیں ۔