تین مسلم نوجوانوں کو حالت روزہ میں رائے درگم پولیس کی شدید مار پیٹ

   

بلا وجہ نشانہ بنانے کا الزام ۔ انسپکٹر کی موجودگی میں غیر انسانی سلوک ‘ ترجمان ایم بی ٹی امجد اللہ خالد کی کمشنر سائبر آباد سے نمائندگی

حیدرآباد : 9مارچ ( سیاست نیوز) کمیونٹی فرینڈلی پولیسنگ کے مطلب کو شاید تلنگانہ میں بدل دیا گیا ۔ عام شہریوں کے ساتھ دوستانہ ماحول پیش آنے کا دعویٰ کرنے والی تلنگانہ پولیس نے تازہ واقعہ میں شمالی ہند ریاستوں کی پولیس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔ ایک کے بعد دیگر مسلم نوجوانوں کو بے رحمی سے مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس اسٹیشن منتقل کرکے ان مسلم نوجوانوں کو ان کی شناخت کے متعلق بدسلوکی کی اور رسوا کرتے ہوئے شدید زدوکوب کیا ۔ کل رات دیر گئے ’ ٹی ہب ‘ علاقہ میں پولیس رائے درگم کی حرکت تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے اور سرکاری طور پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور تشدد سے مسلم سماج میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ رمضان المبارک کے مہینہ میں مسلمانوں کو پولیس کی جانب سے اس طرح تشدد کا نشانہ بنانا پولیس کی ذہنیت کی عکاسی کا سبب بنا ہوا ہے ۔ مسلم نوجوانوں کو پولیس اسٹیشن میں مبینہ طور پر چار تا پانچ پولیس ملازمین نے زدوکوب کیا اور ان کے ساتھ مجرمین جیسا سلوک کرتے رہے جبکہ یہ تمام حرکت اور مارپیٹ کا سلسلہ سرکل انسپکٹر کی نظروں کے سامنے جاری رہا ۔ اس واقعہ پر سخت احتجاج کرتے ہوئے قائد مجلس بچاؤ تحریک و ترجمان جناب امجد اللہ خاں خالد نے آج کمشنر پولیس سائبرآباد سے نمائندگی کی اور ماتحت پولیس ملازمین کی حرکتوں اور اقدامات سے واقف کروایا ۔ محمد فضل الرحمان عاکف ، سید اریب اور محمد سہیل کے ساتھ پولیس رائے درگم کی زیادتی پر افسوس ظاہر کیا اور شدید برہمی کے عالم میں کمشنر پولیس سے درخواست کی کہ وہ فوری انصاف دلانے اقدام کریں اور خاطی پولیس ملازمین کے خلاف کارروائی کریں ۔ عاکف کا الزام ہے کہ وہ کل رات دیر گئے نیلوفر کیفے ٹی ہب میں عبدالرحمان کیساتھ ٹھہرا ہوا تھا کہ ایک پولیس ملازم نے تھپڑ رسید کردیا اور بغیر وجہ بتائے موٹر سائیکل کی چابی چھین لی جس کے بعد متاثرہ مسلم نوجوان نے اپنا موبائیل فون نکال کر ویڈیو گرافی شروع کردی ۔ ان نوجوانوں کو دوسرے دن صبح پولیس اسٹیشن رائے درگم طلن کیا گیا ۔ ان مسلم نوجوانوں کو رائے درگم انسپکٹر کے پاس لایا گیا اور انسپکٹر نے ان لڑکوں کے آدھار کارڈز اور ڈاکومنٹ کی جانچ کے بعد تلگو زبان میں پولیس ملازمین سے کچھ بات کی جس کے فوری بعد انہیں بری طرح مارپیٹ اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور لاتوں ، جوتوں اور چپل سے ان نوجوانوں کو مارتے ہوئے مذہب کے نام پر رسوا کیا گیا ۔ ان نوجوانوں نے انہیں بارہا بتایا کہ وہ حالت روزہ میں ہیں اس کے باوجود ان کو شدید مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا ایسے پولیس ملازمین کی محکمہ میں موجودگی پورے محکمہ کی بدنامی اور نیک نامی کو متاثر کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔ امجد اللہ خاں خالد نے کمشنر پولیس سے درخواست کی کہ وہ خاطی پولیس ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کریں اور انصاف کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سید اریب کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی حالیہ دنوں ٹیومر سرجری ہوئی ۔ امجد اللہ خاں خالد نے کمشنر پولیس سے انصاف کی اپیل کی ہے ۔ع