دھرانی پورٹل پر جائیدادوں کو رجسٹر کرانے کی مہم، عوام کو شخصی معلومات کی طلبی پر اعتراض
حیدرآباد: ریاست میں غیر زرعی جائیدادوں کے مالکین کو دھرانی لینڈ پورٹل پر اپنی جائیداد رجسٹر کرنے کیلئے کئی شخصی تفصیلات پیش کرنے ہوں گے ۔ دھرانی پورٹل پر جائیدادوں کے اندراج کے لئے مالک جائیداد کو اپنی ذات ، افراد خاندان کی تفصیلات اور ان کی تصاویر کے علاوہ آدھار اور موبائیل نمبر پیش کرنا ہوگا۔ میونسپل ایڈمنسٹریشن اور پنچایت راج محکمہ جات کی جانب سے بلدیہ اور گرام پنچایتوں میں ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گھر گھر جاکر تفصیلات حاصل کریں اور اسے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیاجائے۔ حکومت نے اگرچہ 12 اکتوبر تک اس کام کی تکمیل کی مہلت دی ہے لیکن عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسٹاف کی کمی و سروے کے کام کیلئے وقت درکار ہوگا۔ لہذا حکومت کو مہلت میں توسیع کرنی ہوگی۔ حکومت کے گائیڈ لائینس کے مطابق مالک جائیداد ، مذہب ، ذات ، آدھار اور موبائیل نمبر کا حصول لازمی رہے گا۔ اگر کوئی شخص آدھار ، کاسٹ اور ارکان خاندان کی تفصیلات دینے سے انکار کرے تو اس کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا جائے ، اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ حکومت نے 2014 ء میں ریاست بھر میں جامع سروے کے ذریعہ ہر خاندان کی تفصیلات حاصل کی تھیں۔ حکومت نے پنچایت اور میونسپل ریکارڈ میں شامل نہیں کی گئی جائیدادوںکو سروے کے ذریعہ سرکاری ریکارڈ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ غیر زرعی جائیدادوں کے مالکین کو میرون کلر کی پٹہ دار پاس بک جاری کی جائے گی۔ دسہرہ کو دھرانی پورٹل کے آغاز کے بعد سے پاس بک کی اجرائی کا آغاز ہوگا۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کئی جائیداد مالکین کی جانب سے مکمل تفصیلات پیش کرنے سے انکار کیا جارہا ہے۔ جی ایچ ایم سی میں موبائیل نمبر ، مکان نمبر اور پراپرٹی کی تفصیلات بلدیہ کے پاس موجود ہیں۔ تاہم پراپرٹی کے رجسٹریشن کیلئے آدھار نمبر ، ارکان خاندان کی تفصیلات ان کی تصاویر ، پٹہ دار پاس بک کی پیشکشی لازمی ہوگی۔ بلدی حکام کی جانب سے تفصیلات کے حصول پر عوام کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس بات کا اندیشہ ہے کہ حاصل کردہ تفصیلات کا کسی بھی ادارہ کی جانب سے غلط استعمال کیا جاسکتا ہے ۔