نجی تفصیلات کیلئے اصرار نہ کرنے کی ہدایت، پورٹل پر تفصیلات سے وراثت کے تنازعات میں آسانی کا دعویٰ
حیدرآباد: ریاست بھر میں جائیدادوں اور اراضیات سے متعلق حکومت کے سروے پر عوام میں شبہات پائے جاتے ہیں لیکن چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ سروے جاری رکھیں اور جو افراد تفصیلات دینے سے گریز کریں ان پر جبر نہ کیا جائے ۔ ذرائع کے مطابق عہدیداروں نے اجلاس کے دوران چیف منسٹر کو شہر میں عوام کی جانب سے سروے کی مخالفت سے واقف کرایا۔ چیف سکریٹری سومیش کمار و پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق اروند کمار نے مختلف گوشوں سے موصولہ نمائندگیوں کا حوالہ دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ عوام کو سروے کے فوائد سے واقف کرائیں اور اگر کوئی تفصیلات پر مبنی فارم پُر کرنے سے انکار کرے تو اسے چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو افراد سروے میں تعاون کریں ، ان سے تفصیلات حاصل کریں اور دوسروں کو ان کے حال پر چھوڑدیں۔ چیف منسٹر کا کہنا تھا کہ سروے کی مہلت ختم ہونے کے بعد ایسے افراد کو دشواریاں ہوسکتی ہیں جنہوں نے تفصیلات دھرانی پورٹل پر شامل کرنے سے انکار کیا ہو ۔ چیف منسٹر کا کہنا ہے کہ مالک جائیداد اور ارکان خاندان کی تفصیلات کے حصول سے شہری اور دیہی علاقوں میں مالک جائیداد کے انتقال کے بعد وراثت کے تنازعات کی یکسوئی میں مدد ملیگی۔ اکثر دیکھا گیا کہ جائیداد اور اراضی کے کئی دعویدار پیدا ہوجاتے ہیں ۔ مالک جائیداد کی جانب سے اپنے افراد خاندان کے نام پورٹل پر درج کرانے سے رجسٹری میں مدد ملے گی اور عہدیدار غیر قانونی جائیداد میں حصہ داری کا دعویٰ کرنے والوں کو مسترد کرسکتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ زرعی اراضیات کی طرح غیر زرعی اراضیات اور جائیدادوں کے مالکین کو پاس بک کی اجرائی ہر خاندان کیلئے سہولت بخش ہے کیونکہ پاس بک میں صدر خاندان کے علاوہ ان کے وارثین کا نام ہوتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے آدھار تفصیلات کو اختیاری بنانے کی ہدایت دی تاکہ عوام کے اندیشوں کو دور کیا جا سکے۔ آدھار تفصیلات کے بغیر فارم کی خانہ پری کرکے اسی طرح پورٹل پر اپ لوڈ کی جاسکتی ہے ۔ جائیدادوں کی تفصیلات سے متعلق آن لائین سسٹم میں تاحال تبدیلی نہیں کی گئی۔ اگر کوئی آن لائین خانہ پری کرنا چاہے تو آدھار کے بغیر فارم قبول نہیں ہورہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کی تجویز کے مطابق عہدیدار آدھار تفصیلات کو اختیاری بنانے کا جائزہ لے رہے ہیں۔