حیدرآباد ۔ 2 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : دو سال کے طویل عرصہ بعد پاسنجر ٹرین چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔ 24 مارچ 2020 کے بعد اب مسافر ٹرین (پاسنجر ) ٹرینوں کی بحالی کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ کویڈ 19 کے سبب پاسنجر ٹرینوں کو بند کردیا گیا تھا ۔ حالانکہ حالات میں بہتری کے ساتھ ساتھ شرائط کے مطابق ٹرینوں کی بحالی عمل میں لائی گئی تھی ۔ لیکن پاسنجر ٹرین پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا ۔ اب جب کہ حالت مکمل طور پر معمول کے مطابق بحال ہونے لگے ہیں ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ٹرینوں کی بحالی کے لیے اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے اور ریلوے بورڈ نے بھی پاسنجر ٹرین چلانے کی اجازت دے دی ہے ۔ تقریبا 706 دنوں کے طویل عرصہ بعد ان ٹرینوں کی بحالی عمل میں آئے گی ۔ کوویڈ 19 کی پہلی لہر کمزور پڑنے کے بعد تین ماہ کے عرصہ کے لیے 80 فیصد ایکسپریس ٹرینوں کو بحال کیا گیا اور تہواروں کے موقع پر خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں ۔ دوسری لہر کے اعلان کے بعد ٹرینوں کو دوبارہ بند کردیا گیا لیکن جلد ہی ایکسپریس ٹرینوں کی بحالی عمل میں آئی ۔ باوجود اس کے پاسنجر ٹرینوں کو بحال نہیں کیا گیا تھا ۔ تاہم دوسری طرف ان ٹرینوں کو بحال نہ کرنے کے پیچھے کچھ اور وجوہات بنائی جارہی ہیں ۔ ساوتھ سنٹرل ریلوے میں 230 پاسنجر ٹرینیں پائی جاتی ہیں اور ہر دن اوسطا 10 لاکھ شہری ان میں سفر کرتے ہیں ۔ جن کا ٹکٹ بھی بہت کم رہتا ہے ۔ جس کے سبب ریلوے کو کم ٹکٹ سے زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا ۔ صرف 20 فیصد ہی فائدہ اور 80 فیصد گھاٹہ کا سودہ تصور کیا جاتا ہے جس کے سبب پاسنجر ٹرینوں کو بحال کرنے میں تاخیر کی گئی ۔۔ ع