چنائی :معروف اسلامی اسکالر اور جامعہ دارالسلام عمرآباد کے چانسلر مولانا کاکا سعید احمد عمری کا ہفتہ 11 مئی کو عمر آبادٹاملنا ناڈو میں انتقال ہوگیا۔ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکے نائب صدر بھی تھے۔مولانا کاکا سعید احمد عمری کا تعلق عمرآباد کے نامور کاکا خاندان سے تھا جو تعلیم اور انسان دوستی میں اپنی خدمات کیلئے جانا جاتا ہے۔ اس خاندان کی میراث ان کے پردادا، مشہور مخیر حضرات اور چمڑے کے تاجر کاکا محمد عمر صاحب سے ملتی ہے جنہوں نے 1924 میں جامعہ دارالسلام کالج قائم کیا۔ ان کی خدمات کے اعزاز میں اس بستی کا نام عمرآباد رکھا گیا۔جامعہ دارالسلام اب ایک وسیع تر تعلیمی معاشرے کا حصہ ہے جو تعلیم اور خدمت کا ایک مرکز بنا ہوا ہے۔ اس میں ایک ٹامل میڈیم پرائمری اسکول، ایک اردو میڈیم پرائمری اسکول، کمپیوٹر کی تعلیم پر توجہ دینے والا ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اور جامعہ ہاسپٹل بھی ہے ۔مولانا کاکا سعید احمد عمری کے انتقال سے علمی اور تعلیمی میدان میں ایک اہم خلا پیدا ہوا ہے لیکن ان کی خدمات اور تعلیمات آنے والی نسلوں کو متاثر کرتی رہیں گی۔کویت میں ہندوستانی کمیونٹی کی معروف شخصیت محمد ہوشدار خان نے مولانا کے انتقال پر گہرے تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے بتا یا کہمرحوم جب بھی کویت تشریف لاتے تو اتوار کی ہفتہ واری دینی مجلس میں جلوہ افروز ہوتے اور دینی و اصلاحی نصیحتوں سے شرکائے مجلس فیضیاب ہوتے۔مرحوم کی کمی کا احساس ہم سب کو ہوتا رہے گا۔ انہوں نے کاکا سعید عمری رحمہ اللہ پر ایک ضخیم نمبر کی اشاعت کی تجویز پیش کی جس میں مرحوم کے متعلقین کے خصوصی تاثرات بھی شامل ہوں۔ لوگ ایک باوفاء، با اخلاق، با ایمان اور پر خلوص شخصیت سے محروم ہوگئے۔ اس خلاء کو پر کرنا نا ممکن تو نہیں مشکل ضرور ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین