جامعہ طلبہ کو یوپی بھون سے حراست میں لیا گیا

   

نئی دہلی20 فروری (سیاست ڈاٹ کام )اترپردیش میں سیاسی اور سماجی کارکنان کے خلاف استعمال کیے جانے والے سخت قوانین کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے جمعرات کو یہاں اترپردیش بھون کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انھیں و حراست میں لے لیا۔ جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کی جانب سے اترپردیش میں غیر قانونی سرگرمیوں کی (روک تھام) قانون (یو اے پی اے )، قومی سلامتی قانون (این ایس اے )، عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے ) اور ملک سے غداری جیسے قوانین کا سیاسی اور سماجی کارکنان کے خلاف استعمال کیے جانے کے خلاف یوپی بھون کا گھیراؤ کرنے کی کال دی تھی۔اتر پردیش بھون کے باہر مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو پولیس حراست میں لے کر مندر مارگ تھانے لے کر گئی ہے ۔ مظاہرین طلبہ نے ڈاکٹر کفیل کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ غور طلب ہے کہ ڈاکٹر کفیل کو 12 دسمبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اشتعال انگیز تقریر کے الزام میں ممبئی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت کی جانب سے ڈاکٹر کفیل کو ضمانت مل گئی تھی لیکن اس کے بعد این ایس اے کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ مظاہرے میں شامل ایک طالب علم الامین نے بتایا کہ پولیس نے 30 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا ہے ۔