جامعہ عثمانیہ میںشعبہ اردو سے ناانصافیاں جاری

   

ایم اے اردو فاصلاتی تعلیم کی کلاسیس کا ہنوز آغاز نہیںہوا
حیدرآباد14مئی (سیاست نیوز) جامعہ عثمانیہ کے شعبہ اردو کے ساتھ نانصافیوں کا سلسلہ ختم ہوتا نظر نہیں آتا بلکہ اس عظیم جامعہ میں اردو کو نظرانداز کیا جا رہاہے جس کے نتیجہ میں اردو تعلیم پانے والے طلبہ کو نقصان ہورہا ہے۔ جامعہ عثمانیہ کے شعبہ فاصلاتی تعلیم پروفیسر جی رام ریڈی سنٹر فار ڈسٹنس ایجوکیشن کے تحت ایم اے (اردو) کے سواء تمام مضامین کے طلبہ کیلئے کلاسس منعقد ہورہی ہیں اور اسائنمنٹ وصول کئے جا رہے ہیں لیکن اب تک ایم اے (اردو) فاصلاتی تعلیم کلاسس کا اہتمام نہیں کیا گیا اور نہ اس کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے ۔ جامعہ عثمانیہ کے مرکز برائے فاصلاتی تعلیم سے سالانہ امتحانا ت کیلئے ٹائم ٹیبل جاری کر دیا گیا لیکن کلاسس کے عدم انعقاد سے طلبہ کی رہنمائی نہیں ہوپائی ہے۔بتایا گیا کہ شعبہ اردو کے ذمہ داروں نے فاصلاتی تعلیم کے ذمہ دار عہدیداروں کو اس بات سے واقف کروایا ہے لیکن ان کلاسس کا اہتمام عمل میں نہیں لایا گیا جو انتہائی افسوسناک ہے۔سال گذشتہ بھی پوسٹ گریجویٹ طلبہ کی ان کلاسس کیلئے متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے نتیجہ میں کلاسس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ عہدیداروں کا کہناہے کہ ایم اے اردو کی کلاسس میں طلبہ کی قابل لحاظ تعداد نہ ہونے سے انتظامیہ کو بھی کلاسس کے انعقاد میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اسی لئے ایم اے اردو میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں کلاس میں شرکت کریں تاکہ جامعہ میں اردو زبان کے ساتھ جاری تعصب کے خاتمہ کو یقینی بنایا جاسکے۔م