جاپان اور برازیل پائیدار ایندھن کا استعمال چار گنا کریں گے

   

توکیو، 16 ستمبر (یو این آئی) جاپان اور برازیل نے بین الاقوامی کانفرنس کے دوران پائیدار ایندھن کو فروغ دینے سے متعلق اس بات پر اتفاق کرلیا ہے کہ ان کا ہدف 2035 تک عالمی سالانہ استعمال کو چار گنا سے زیادہ کرنا ہے ۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جاپان اور برازیل کی حکومتوں نے اوساکا شہر میں پائیدار ایندھن پر پہلا وزارتی اجلاس منعقد کیا۔ جس میں یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں کے 30 سے زائد ممالک کے وزراء کے علاوہ بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے ۔ رپورٹس کے مطابق اجلاس کے شریک صدر جاپان کے وزیر صنعت مُتو یوجی کا کہنا تھا کہ ان ایندھنوں کے استعمال کو بڑھانے کیلئے ہر ملک کی کوششوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اور سرکاری و نجی تعاون ضروری ہوگا۔ دوران اجلاس شرکاء نے کہا کہ بائیو فیول اور ہائیڈروجن جیسے ڈی کاربنائزیشن کا باعث بن سکنے والے ایندھنوں کے استعمال کو کیسے فروغ دیا جائے ۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ہر ملک کو اپنے اپنے حالات کی بنیاد پر ایسے ایندھنوں کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جاپان حکومت نے غیر ملکیوں کیلئے ویزا شرائب سخت کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق جاپان غیر ملکی کاروباری افراد کیلیے ویزا شرائط سخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے تحت سرمایہ کاری کیلیے 30 ملین ین (204000 امریکی ڈالر) درکار ہوں گے اور کم از کم ایک فرد کی کُل وقتی ملازمت ہوگی۔ سخت قوانین جولائی میں ایوان بالا کے انتخابات کے بعد سامنے آئے جس میں ایک اپوزیشن مخالف امیگریشن پارٹی کو حمایت حاصل ہوئی اور حکمران اتحاد نے اکثریت کھو دی۔ مسودے میں وزارت انصاف نے کہا کہ وہ اکتوبر میں ہونے والی تبدیلیوں کو اپنانے سے پہلے 24 ستمبر تک رائے عامہ کا جائزہ لے گی۔ ‘بزنس اینڈ مینجمنٹ ویزا’غیر ملکی شہریوں کو جاپان میں کاروبار قائم کرنے اور اس کا انتظام کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ یہ قابل تجدید اختیارات کے ساتھ پانچ سال تک طویل مدتی قیام کی پیشکش کرتا ہے اور خاندان کی شمولیت کی اجازت بھی دیتا ہے ۔