جاپان بھی ہند وستان کے نقش قدم پر ’مون اسنائپر‘ چاند پر جانے کیلئے تیار

   

ٹوکیو : ہند وستان کے کامیاب اسپیس مشن کے بعد جاپان کا ’مون اسنائپر‘ مشن اپنی ناکامیوں پر قابو پاتے ہوئے چاند پر جانے کے لیے اگلے ہفتے اڑان بھرنے کو تیار ہے۔غیر ملکی خبر ساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق راکٹ اپنے ساتھ ایک لینڈر اور ایکس رے ایمیجنگ سیٹیلائٹ لے کر 4 سے 6 ماہ میں چاند کی سطح پر اترے گا تاکہ دنیا کی تخلیق سے متعلق مزید کھوج کی جا سکے۔جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جازا) کے مطابق راکٹ لانچنگ کی متوقع پرواز پیر کے روز کی جائے گی، خراب موسم کے باعث اس کی اڑان کے وقت کو ایک دن ا?گے بڑھادیا گیا ہے۔جاپان کا ایرو اسپیس پروگرام دنیا کے بہترین پروگرامز میں جانا جاتا ہے، چاند پر کمند ڈالنے کا جاپان کا ایک مشن نومبر 2022 میں ناکام ہوگیا تھا اور ایک نئے قسم کا راکٹ ٹیسٹنگ کے دوران پھٹ کر تباہ ہوگیا تھا۔جازا کی ساری امیدیں اب اسمارٹ لینڈر فار انویسٹی گیٹنگ مون (سلم) سے وابستہ ہیں۔اپنے نام سے مطابقت رکھتے ہوئے سلم ایک چھوٹا اور ہلکا راکٹ ہے جسکی اونچائی 2.4 میٹر، چوڑائی 2.7 میٹر اور لمبائی 1.7 میٹر ہے اور اس کا وزن تقریباً 700 کلو گرام ہے۔جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی کو امید ہے کہ وہ اسے چاند پر اپنے ٹارگٹ کے کئی کلو میٹر نہیں بلکہ 100 میٹر کے اندر اتار سکیں گے، اس راکٹ کو اپنی مہارت کی وجہ مون اسنائپر نام دیا گیا ہے۔پالم سائزڈ روور کا استعمال کرتے ہوئے جو اپنی شکل تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کو ایک کھلونے کی کمپنی نے تشکیل دیا ہے جس کا مقصد چاند پر موجود لونر مینٹل کو جانچ کر چاند کی تشکیل کے راز سے پردہ اٹھانا ہے۔سلم پروجیکٹ ٹیم کے شینیشیرو سکائی نے بتایا کہ چاند پر اترنے کی ٹیکنالوجی مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔شینیرو سکائی کا مزید کہنا تھا کہ اپنی روایت برقرار رکھنے کے لیے ہم آپریشن میں اپنی پوری صلاحیت بروئے کار لائیں گے۔