ماں نے دو ماہ کے بچے کو آگ میں پھینک دیا
شوہر، بیوی کے جھگڑوں کے بعد انتہائی دلسوز واقعہ
حیدرآباد۔ 24 فروری (سیاست نیوز) شہر کے مضافاتی علاقہ میں ایک انتہائی انسانیت سوز واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ میں ایک خاتون کو حراست میں لے لیا گیا ہے جس نے سنگ دلی کی انتہا کردی اور اپنے دو ماہ کے بچے کو جلتی آگ میں پھینک دیا۔ اس بے رحم ماں کو پولیس نے اپنی حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ بچے کے باپ کی آہ و بکا اور میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کے بعد اس ہولناک حقیقت کا پتہ چلا۔ یہ واقعہ دنڈیگل پولیس اسٹیشن حدود کے بورم پیٹ علاقہ میں پیش آیا جہاں لیبر کے لئے تعمیر کردہ مکانات میں مدھیہ پردیش سے تعلق والا ایک جوڑا مقیم تھا اور قریب میں واقع تعمیراتی سائٹ پر مزدوری کرتا تھا۔ دنڈیگل پولیس ذرائع کے مطابق راجندر آدیواسی کی شکایت پر پولیس نے کارروائی کا آغاز کیا اور اس کی بیوی 20 سالہ ممتا کو حراست میں لے لیا۔ دو ماہ کا بچہ کل رات سے رو رہا تھا بچے کے مسلسل رونے سے ممتا پریشان ہوگئی اور اس شیرخوار بچے کے منہ میں کپڑے کا ٹکڑا ٹھونس دیا۔ اس شیرخوار کو جلتے لکڑی کے چولہے میں ڈال دیا۔ اس ظالم ماں کی اس انسانیت سوز حرکت کو دیکھتے ہوئے اس کے شوہر نے چیخ و پکار شروع کردی اور فوری بچے کو اپنی آغوش میں لے لیا لیکن جب تک بچہ فوت ہوچکا تھا۔ شوہر کی آہ و بکا سن کر مقامی عوام بھی غم زدہ ہوگئے۔ اس سے قبل کے اس ماں پر برہمی کا اظہار کیا جاتا پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس کو حراست میں لے لیا اور مصروف تحقیقات ہے۔ ع
عنبرپیٹ میں قتل و اجتماعی خودکشی کا واقعہ
بزنس میں نقصان اور قرض کے بوجھ پر خاندان کا انتہائی اقدام
حیدرآباد۔ 24 فروری (سیاست نیوز) شہر کے علاقہ عنبرپیٹ میں قتل اور اجتماعی خودکشی کا واقعہ پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کاروبار میں نقصان اور قرض کے بوجھ سے تنگ آکر ایک خاندان نے انتہائی اقدام کیا۔ ایک شخص نے بیٹے کی مدد سے بیوی کا قتل کردیا اور بیٹے کے ساتھ اجتماعی خودکشی کرلی۔ عنبرپیٹ پولیس حدود میں پیش آئے اس واقعہ کے بعد شہر میں سنسنی پھیل گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ 55 سالہ راماراجو اپنی بیوی 50 سالہ مادھوی اور 24 سالہ لڑکے ششانک کے ساتھ رہتا تھا۔ آج راما راجو نے اپنے بیٹے کے ساتھ بیوی کا مبینہ طور پر قتل کردیا اور اس کے بعد اجتماعی خودکشی کرلی۔ ذرائع کے مطابق راما راجو پیشہ سے تاجر تھا اور کاروبار میں بھاری نقصان اور قرض کے بوجھ سے وہ ذہنی دباؤ اور قرض داروں کی مبینہ ہراسانی کے سبب پریشان ہوگیا تھا اور یہ اقدام کیا۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد اس نتیجہ کو اخذ کیا ہے۔ تاہم پولیس اس سنسنی خیز واقعہ کی ہر زاویہ سے تحقیقات کررہی ہے۔ ع