بیروت: ایسے وقت میں جبکہ غزہ پٹی میں نو ماہ سے جنگ جاری ہے، لبنان میں بھی حزب اللہ کے ساتھ وسیع تر جنگ چھڑنے کا امکان ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم کی پالیسی پر تنقید کو سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے لگتا یوں ہیکہ بنجامن نیتن یاہو کو ایک نئے بحران کا سامنا ہونے جا رہا ہے۔اسرائیلی تحقیقاتی کمیشن نے پیر کے روز وزیر اعظم کو بھیجے گئے خط میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کمیشن کے مطابق آٹھ برس قبل جرمنی سے خریدی جانے والی آبدوزوں کے معاملے میں نیتن یاہو کا کردار ٹھیک نہیں رہا۔خبروں سے متعلق معروف امریکی ویب سائٹ Axios کے مطابق کمیشن کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے تصرفات نے اسرائیلی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا اور ملک کے خارجہ تعلقات اور اقتصادی مفادات کو نقصان پہنچایا۔ کمیشن نے خط میں واضح کیا کیا گیا ہے کہ اس معاملے سے متعلق کمیشن کی حتمی رپورٹ وزیر اعظم نیتن یاہو اور چار سابق سینئر ذمہ داران پر منفی طور اثر انداز ہوگی۔ کمیشن کے مطابق نیتن یاہو نے آبدوزوں اور جنگی بحری جہازوں کی خریداری کے حوالے سے جرمنی کے ساتھ معاہدے طے کرنے کے علاوہ مصر کو آبدوزیں فروخت کرنے کا بھی سودا کیا۔ یہ اقدام بنا کسی اندراج اور تصدیق کے عمل میں آیا اور نیتن یاہو نے حکومتی ارکان اور دفاعی ادارے کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔ مزید یہ کہ نیتن یاہو نے ان معاملات کے حوالے سے اپنی سفارتی بات چیت کو متعلقہ ذمہ داران سے مخفی رکھا جبکہ وزیراعظم کو پہلے خبردار کیا جا چکا تھا کہ ایسا کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی اسرائیلی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کر رہے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ اپنا حتمی نتیجہ جاری کرنے سے قبل وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایک موقع دینا چاہتی ہے تا کہ وہ اپنا نقطہ نظر پیش کر سکیں۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نے گذشتہ روز پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے مذکورہ کمیشن کے کام کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کمیشن درحقیقت بیوروکریسی ہے اور اس کے پیش نظر اسرائیل کی سلامتی نہیں ہے۔