جرمنی میں ترکی کے خانگی اسکولس کی تجویز پر تنازعہ

   

ہمیں اردوغان کے اسکولس نہیں چاہئے، قدامت پسند لیڈر کا ردعمل
برلن۔ 11 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) جرمنی میں ترکی کے تین اسکولوں کی کشادگی کی تجویز نے اس ملک میں 30 لاکھ نفوس پر مشتمل طاقتوں ترک برادری پر ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے متعلق دیرینہ تنازعہ پھر ایک مرتبہ بھڑک اٹھا ہے۔ جرمن مساجد پر ترک اثرورسوخ پر برسوں سے جاری بحث کے بعد منظر عام پر آنے والی اس تجویز پر قدامت پسند سیاست دانوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ چانسلر انجیلا مرکل کی حکمران قدامت پسند پارٹی کی حلیف باویرین سی ایس یو کے جنرل سیکریٹری مارکوس بلوم نے برہمی کے ساتھ جھنجھلاکر کہا کہ جرمن میں اردوغان اسکولس نہیں چاہتے۔