عمان: جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے جمعرات کو کہا کہ برلن غزہ کی پٹی کیلئے انسانی امداد میں 55 ملین ڈالر کا اضافہ کرنے والا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان عمان میں اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفادی سے ملاقات میں کیا۔جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ اردن میں اپنے ہم منصب ایمن الصفادی سے ملاقات سے قبل انہوں نے ریاض میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود سے ملاقات کی۔سفارتی ذرائع نے ڈی ڈبلیو کی نامہ نگار نینا ہاسے کو بتایا کہ جرمن وزیر خارجہ نے سعودی ہم منصب پر زور دیا کہ اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں دو ریاستی حل کے قیام کی کوششوں کو برقرار رکھا جائے۔اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفادی سے ملاقات میں بیئربوک نے کہا کہ جرمنی کی طرف سے گزشتہ سال سے غزہ کی پٹی کیلئے کل امدادی رقم 360 ملین یورو سے تجاوز کرچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ امدادی پیکج کا فوکس بھوک، غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ صحت کی خدمات کی فراہمی پر ہے۔جرمنی نے 2024 کیلئے اردن کیلئے برلن کی امداد کو بھی 12.7 ملین یورو بڑھا کر 63 ملین یورو کر دیا۔جرمن وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم یروشلم میں مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔بیئربوک کا کہنا تھا کہ بعض اسرائیلی وزراء کے غیرذمہ دارانہ بیانات پہلے سے ہی دھماکہ خیز صورتحال کو مزید ایندھن فراہم کر رہے ہیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ اسرائیلی فریق ان اشتعال انگیز بیانات پر روک لگائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اسرائیل کو دہشت گردی سے نمٹنے کا حق حاصل ہے، لیکن سڑکوں کو توڑ کر، پانی کے پائپوں اور بجلی کے گرڈ کو تباہ کر کے، یہاں تک کہ ہسپتالوں تک رسائی کو روک کر آپ دہشت گردی سے نہیں لڑسکتے۔اردنی وزیر خارجہ الصفادی نے جرمن حکومت سے اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا غزہ میں 10 ماہ سے زائد جارحیت کے بعد بھی نیتن یاہو اقوام متحدہ کی بات نہیں سن رہے ہیں۔ وہ سلامتی کونسل اور نہ ہی مغرب میں اپنے دوستوں کے مشورے کو ماننے کیلئے تیار ہیں۔