ممبئی ، 26 مارچ (یو این آئی) مہاراشٹرا کی سیاست میں جاری تنازعات کے درمیان اب ریاست کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے وزیر نرہری جروال سے متعلق ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے ، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے اور ان کے ممکنہ استعفے سے متعلق قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ اس سے قبل ریاستی خاتون کمیشن کی چیئرپرسن روپالی چاکنکر کے استعفے کے بعد یہ دوسرا بڑا تنازع مانا جا رہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر نرہری جروال کا تقریباً 10 منٹ کا ایک مبینہ ویڈیو وائرل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے ۔ اس ویڈیو میں وہ ایک کِنّر کے ساتھ کمرے کے اندر موجود دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ بعض مناظر میں انہیں بستر پر لیٹے ہوئے بھی دیکھا جا رہا ہے ۔ ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد ریاستی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور معاملہ تیزی سے توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔اپوزیشن اتحاد مہاوکاس اگھاڑی کے رہنماؤں نے اس معاملے پر فوری ردعمل دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے پہلے ویڈیو کی حقیقت اور اس کے حقائق کی مکمل جانچ ضروری ہے ، جس کے بعد ہی اس پر کوئی باضابطہ بیان دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والا دوسرا شخص ماضی میں کئی سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہا ہے اور خود کو ایک ایڈوکیٹ بھی بتاتا ہے ۔نرہری جروال اجیت پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما ہیں اور ناسک ضلع کی دنڈوری اسمبلی نشست سے رکن اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں۔ فی الحال وہ مہاراشٹرا حکومت میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن محکمہ کے کابینہ وزیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا سیاسی کیریئر طویل رہا ہے ، اور وہ مہاراشٹرا اسمبلی کے نائب اسپیکر بھی رہ چکے ہیں، جبکہ کچھ عرصے کیلئے انہوں نے کارگزار اسپیکر کے طور پر بھی اسمبلی کی کارروائی سنبھالی تھی۔ اگرچہ اس مبینہ ویڈیو کی حقیقت ابھی واضح نہیں ہے اور حتمی صورتحال جانچ کے بعد ہی سامنے آئے گی، تاہم فی الحال اس معاملے نے مہاراشٹرا کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر سیاسی سرگرمی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔