راج بھون میں متاثرکن تقریب، گورنر نے حلف دلایا، چیف منسٹر، ججس اور اہم شخصیتوں کی شرکت
حیدرآباد 11 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاستی گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے جسٹس ستیش چندرا شرما کو چیف جسٹس تلنگانہ ہائیکورٹ کے عہدے کا حلف دلایا۔ حلف برداری تقریب راج بھون میں منعقد ہوئی جس میں چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے علاوہ ہائیکورٹ کے وزراء اور معززین نے شرکت کی۔ چیف جسٹس ستیش چندرا شرما نے انگریزی زبان میں حلف لیا۔ حلف برداری سے قبل ہائیکورٹ کی رجسٹرار نے جسٹس شرما کے چیف جسٹس تلنگانہ ہائیکورٹ کے عہدے پر تقرر سے متعلق صدرجمہوریہ رامناتھ کووند کے احکامات پڑھ کر سنائے۔ گورنر نے احکامات تقرر جسٹس شرما کے حوالے کئے جس کے بعد اُنھیں حلف دلایا گیا۔ حلف برداری کے فوری بعد گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن اور چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے نئے چیف جسٹس کو گلدستہ پیش کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔ تقریب میں اسپیکر قانون ساز اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی، عبوری صدرنشین قانون ساز کونسل بھوپال ریڈی، ریاستی وزراء اندرا کرن ریڈی، ملاریڈی، سرینواس گوڑ، ستیہ وتی راٹھور، ہائیکورٹ کے ججس جسٹس راج شیکھر ریڈی، جسٹس نوین راؤ، جسٹس شمیم اختر، جسٹس امرناتھ گوڑ، جسٹس ابھینند کمار شاولی، جسٹس شریمتی سری دیوی، جسٹس ونود کمار، جسٹس ابھیشک ریڈی، جسٹس لکشمن، جسٹس بی وجئے سین ریڈی، صدرنشین تلنگانہ انسانی حقوق کمیشن جسٹس چندریا، ارکان پارلیمنٹ کے کیشو راؤ، بی لنگیا یادو، بی بی پاٹل، ریونت ریڈی، ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کے علاوہ ڈائرکٹر جنرل پولیس مہندر ریڈی، اسپیشل چیف سکریٹری سنیل شرما، رام کرشنا راؤ، وکاس راج، ہائیکورٹ کی رجسٹرار شریمتی اے چکراورتی، گورنر کے سکریٹری سریندر موہن، میئر گریٹر حیدرآباد وجئے لکشمی اور دوسروں نے شرکت کی۔ چیف سکریٹری سومیش کمار نے تقریب کی کارروائی چلائی۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائیکورٹ کے عہدے پر فائز جسٹس ہیما کوہلی 31 اگسٹ کو سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے جائزہ حاصل کرنے کے بعد یہ عہدہ خالی تھا۔ جسٹس ایم ایس رامچندر راؤ نے کارگذار چیف جسٹس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور گزشتہ دنوں اُنھیں پنجاب ہریانہ ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ جسٹس ستیش چندرا شرما تلنگانہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقرر کئے جانے سے قبل کرناٹک ہائیکورٹ کے کارگذار چیف جسٹس کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ جسٹس شرما 30 نومبر 1961 ء کو مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد بی این شرما یونیورسٹی آف جبلپور میں نامور پروفیسر رہے جنھیں بعد میں وائس چانسلر برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال مقرر کیا گیا۔ جسٹس شرما کی والدہ شانتی شرما مہارانی لکشمی بائی ہائیر سکینڈری اسکول کی پرنسپل تھیں۔ بعد میں اُنھیں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جبلپور مقرر کیا گیا۔ ستیش چندرا شرما نے کرائسٹ چرچ بوائز ہائیر سکینڈری اسکول سے دسویں پاس کیا جبکہ سنٹرل اسکول جبلپور سے بارہویں کلاس کی تکمیل کی۔ 1981 ء میں ڈاکٹر ہری سنگھ گور یونیورسٹی سے بیچلر آف سائنس کی ڈگری میں نمایاں نشانات کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ اُنھیں پوسٹ گرائجویشن کے لئے نیشنل میرٹ اسکالرشپ دی گئی۔ اُنھوں نے 1984 ء میں بیچلر آف لاء پہلے درجہ میں کامیاب کیا اور اُنھیں یونیورسٹی سے تین گولڈ میڈل حاصل ہوئے۔ یکم ستمبر 1984 ء کو اُنھوں نے ایڈوکیٹ کی حیثیت سے اپنا نام شامل کرایا اور 2003 ء میں 42 سال کی عمر میں اُنھیں مدھیہ پردیش ہائیکورٹ میں سینئر ایڈوکیٹ کا درجہ حاصل ہوا۔ جسٹس مشرا نے دستوری اُمور، سیول اور کریمنل کیسیس کی ہائیکورٹ میں پیروی کی۔ 28 مئی 1983 ء کو اُنھیں ایڈیشنل کونسل حکومت ہند مقرر کیا گیا اور 6 جون 2004 ء کو وہ سینئر کونسلس کے پیانل میں شامل ہوئے۔ 18 جنوری 2009 ء کو جسٹس شرما مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کے جج مقرر کئے گئے جبکہ 15 جنوری 2010 ء کو اُنھیں مستقل جج کا درجہ دیا گیا۔ 4 جنوری 2021 ء کو اُن کا تبادلہ کرناٹک ہائیکورٹ کیا گیا۔ بعد میں 31 اگسٹ کو اُنھوں نے کارگذار چیف جسٹس کی ذمہ داری سنبھالی۔ جسٹس مشرا کے قانون کے شعبہ میں کئی ریسرچ اور پیپرس شائع ہوچکے ہیں۔ ر