جسپریت بمراہ جب آئرلینڈ کے خلاف ہندوستان کی قیادت کریں گے

   

ڈبلن ۔ میدان سے باہر ہونے کے تقریباً 11 ماہ بعد جسپریت بمراہ جب آئرلینڈ کے خلاف ہندوستان کی قیادت کریں گے تو سب کی نظریں ان پر مرکوز ہوں گی جیسا کہ جمعہ سے شروع ہونے والی تین میچوں کی ٹی20 انٹرنیشنل سیریز میں فاسٹ بولرکی فٹنس اور فام کی جانچ کی جائے گی۔ ہندوستانی ٹیم کے آئی پی ایل اسٹارس جیسے رتوراج گائیکواڈ، رنکو سنگھ اور جیتیش شرما سے بھری ہوئی ہے لیکن ہندوستانی کرکٹ کے اسٹیک ہولڈرز بمراہ کو گہری نظر سے دیکھیں گے، جو دو ماہ سے بھی کم عرصے میں شروع ہونے والے ونڈے ورلڈ کپ کے دوران میزبان ٹیم کے منصوبوں کی کلید ہوں گے۔ 29 سالہ بمراہ پچھلے سال ٹی20 ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریزکے دوران کمر کے نچلے حصے کے تناؤ کے فریکچر کے علاج کے لیے سرجری کروانے کے بعد میدان میں واپس آرہے ہیں۔ وہ پانچ دنوں کے دوران تین مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ 12 اوورزکی بولنگ کریں گے لیکن اس سیریز سے سلیکٹرزکے چیئرمین اجیت آگرکر ونڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان روہت شرما اور ہیڈ کوچ راہول ڈراویڈ کی جانب سے اندازہ لگایا جا سکے گا کہ گجرات کا کھلاڑی میچ فٹنس کی سطح پرکہاں ہے۔ اگرچہ 50 اوور کی کرکٹ ایک مختلف ایونٹ ہے جہاں انہیں 10 اوورز دو، تین یا چار اوورکے اسپیل میںکرنے ہوں گے۔ بی سی سی آئی نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈل پر بمراہ کی بولنگ کی ویڈیو جاری کی، جس میں وہ ایک دائیں ہاتھ کے کھلاڑی کو اچھی طرح سے شارٹ گیند ڈالتے ہوئے دیکھا گیا اور پھر بائیں ہاتھ کے کھلاڑی کو پیر کولہو کے ساتھ تقریباً یارک کیا، جو کہ ایک پر سکون منظر ہے ، لیکن میچ کی صورتحال بالکل مختلف ہوگی اور ڈراویڈ اور روہت دونوں نے پچھلے سال آسٹریلیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے جلدی بازی کی تھی اور نتائج تباہ کن تھے۔ قبل ازیں انہیں اس سال کے شروع میں ایک ہوم سیریز کے لیے نامزد کیا گیا تھا لیکن وہ صرف گیارہویں گھنٹے میں انہیں باہر نکالا گیا تھا کیونکہ کیریئر کے لیے خطرناک چوٹ کے علاج کے لیے ان کی سرجری ہوئی تھی۔ آئرلینڈ کی سیریز نہ صرف بمراہ کو ایک مثالی موقع فراہم کرتی ہے بلکہ اسے ایشیا کپ کے لیے تیار ہونے میں بھی مدد فراہم کرے گی، جہاں وہ2 ستمبر کو بابر اعظم کی ٹیم کے خلاف میدان میں اتریں گے۔ دوسری جانب ہیری ٹییکٹر، لورکن ٹکر، بائیں ہاتھ کے اسپنر جارج ڈوکریل جیسے کارآمد کھلاڑیوں کے ساتھ اینڈریو بالبرنی کی قیادت میں آئرلینڈ مختصر ترین فارمیٹ میں ایک معیاری ٹیم ہے حالانکہ وہ ابھی تک ہندوستان کے خلاف کوئی میچ نہیں جیت سکی لیکن اسے آسان حریف تصور کرنا غلطی ہوگی۔ ان کے بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر جوش لٹل پچھلے سال گجرات ٹائٹنز اسکواڈ کا ایک لازمی حصہ تھے اور انہیں یہ ظاہر کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی کہ وہ اسٹارس سے بھری ہندوستانی ٹیم کے خلاف کیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس ہندوستانی ٹیم کے کھلاڑی، بمراہ اور سنجو سیمسن کو چھوڑ کر، ہانگڑو میں ہونے والے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل کے لیے کوشاں ہوں گے اور بنیادی ٹیم تینوں ٹی ٹوئنٹی میں سے زیادہ تر مواقع بنانے کی خواہش مند ہوگی۔ ایک کھلاڑی، جس کی جگہ یقینی طور پر جانچ کی زد میں ہوگی، وہ ہیں سنجو سیمسن۔ ان کے پلیئنگ الیون میں شامل ہونے کا امکان نہیں ہے جب تک کہ ہیڈ کوچ سیتانشو کوٹک کو ایشیا کپ سے قبل کیرالہ کے کھلاڑی کو کھیلنے کے لیے مین ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے مستقل ہدایات نہیں مل جاتیں۔ آئی پی ایل کی دو دلچسپ تلاش جیتیش اور رنکو کو پہلا موقع ملنے کی امید ہے جبکہ شیوم دوبے بھی دوڑ میں شامل ہیں۔