دھوپ سے جلد کے جھلسنے پر داغ ، کیل مہاسے ، جلد کی رگڑ سے پسینے کے اخراج پر امراض
حیدرآباد۔26اپریل(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں درجہ حرارت میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے سبب جلدی امراض کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور ماہرین امراض سے جلد سے رجوع ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں دھوپ کی شدت کے سبب جلد کے جھلسنے سے پڑنے والے داغ ‘ کیل مہاسے اور جلد کی رگڑ وپسینے کے اخراج سے ہونے والے جلدی امراض کا شکار مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ ماہرین امراض جلد کا کہناہے کہ اگر شدید دھوپ کے دوران جلدی امراض سے محفوظ رہنے کیلئے کی جانے والی احتیاط پر عمل کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں جلد کے جھلسنے کی شکایات اور مہاسوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ گرما کے دوران زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال اور ٹھنڈے مشروبات کا استعمال جلد کو صحتمند اور تروتازہ رکھنے میں بے انتہاء کارآمد ثابت ہوتا ہے اورشدید دھوپ کی زد میں آنے سے جلد کو محفوظ رکھنے کی صورت میں بھی جلد ی امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ موسم گرما کے دوران پسینہ کے اخراج کے مقامات اور جہاں سے پسینہ زیا دہ آتا ہے جسم کے ان حصوں میں پیدا ہونے والی خارش سے محفوظ رہنے کیلئے ان حصوں کو خشک و صاف رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے علاوہ ازیں ان حصوں میں پیدا ہونے والی خارش کو فوری دور کرنے کیلئے ماہرین امراض جلد سے مشاورت کرتے ہوئے ان کی تجویز کردہ ادویات کا استعمال کرنے میں تاخیر نہیں کی جانی چاہئے ۔ گرمی کی شدت کے جلد پرہونے والے منفی اثرات کو دور کرنے کیلئے اگر کوئی گھریلو نسخوں کا استعمال کرتے ہوئے جلد کو صاف ستھرارکھتا ہے تو ایسے میں انہیں کافی حد تک جلد کے جھلسنے کی شکایات اور مہاسوں سے نجات حاصل ہوسکتی ہے۔ جاریہ موسم گرما کے دوران جلدی امراض کے شکار افراد کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں ماہراطباء کا کہناہے کہ درجہ حرارت میں ہونے والے اضافہ اور موسمی تبدیلیوں کے سبب جلد پر ہونے والے اثرات کے متعلق شعور بیداری کے نتیجہ میں شہریوں کی بڑی تعداد کو جلد کے جھلسنے سے ہونے والے امراض کے متعلق آگہی حاصل ہوئی ہے ۔جلدی امراض کے علاج کے سلسلہ میں اب تک ماہرین امراض جلد کو خوبصورتی اور چہرے کو نکھارنے والے ڈاکٹرس تصور کیا جاتا تھا ۔م