جماعت اسلامی کی مجموعی طور پر کانگریس کو حمایت

,

   

40 بی آر ایس، 7 مجلس، ایک بی ایس پی اور ایک سی پی آئی کی تائید کا فیصلہ
حیدرآباد۔22۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں جماعت اسلامی نے مجموعی طور پر کانگریس کی تائید کا اعلان کردیا ہے اور بعض نشستوں پر بھارت راشٹرسمیتی ‘ مجلس ‘ کے علاوہ ایک نشست پر بی ایس پی اور ایک نشست پر سی پی آئی کی تائید کا اعلان کیا گیا ہے۔جناب عبدالمجید شعیب کنوینر سیاسی کمیٹی جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ و معاون امیر حلقہ نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے حلقہ واری اساس پر اپنے کیڈر کے ذریعہ کروائے گئے سروے کی بنیاد پر امیدوارو ںکی اہلیت اور ان کی صلاحیت کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ ریاست تلنگانہ کی 119 اسمبلی نشستوں میں 69نشستوں پر کانگریس کی تائید کی جائے گی جبکہ 41نشستوں پر بی آر ایس کی تائید کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ شہر حیدرآباد سے جہاں مجلس اتحادالمسلمین کے ارکان اسمبلی ہیں ان 7حلقہ جات اسمبلی سے مجلس کی تائید کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ اس کے علاوہ سی پی آئی کو ایک نشست پر تائید فراہم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے جبکہ بی ایس پی سے مقابلہ کر رہے سابق آئی پی ایس امیدوار مسٹر آر ایس پروین کمار کی تائید کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں ہونے جا رہے انتخابات کے سلسلہ میں جماعت اسلامی نے سیاسی کمیٹی کی تشکیل کے ذریعہ ریاست کے تمام حلقہ جات اسمبلی میں موجود اپنے کارکنوں اوراراکین شوریٰ سے مشاورت کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے بجائے امیدواروں کی صلاحیت اور اہلیت کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گذشتہ انتخابات میں جماعت اسلامی نے بھارت راشٹرسمیتی کی تائید کا اعلان کیا تھا اور اس وقت بھی جماعت نے امت کے مسائل اور مطالبات کو سیاسی جماعتوں کے آگے پیش کیا تھا ۔ انہو ںنے بتایا کہ بھارت راشٹرسمیتی نے گذشتہ انتخابات سے قبل جو وعدے مسلمانوں سے کئے تھے ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں بی آر ایس بڑی حد تک جماعت اسلامی کی تائید حاصل کرنے سے محروم رہی ہے۔ جناب عبدالمجید شعیب کے ہمراہ اس پریس کانفرنس کے دوران ابوالکرم مشتاق ‘ جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی حلقہ تلنگانہ کے علاوہ جی سرینواس موجود تھے۔ جناب عبدلمجید شعیب نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے ریاست کے تمام حلقہ جات اسمبلی کے سروے اور امیدواروں کی تفصیلات کے لئے اپنے کیڈر کے علاوہ الائنس فار ڈیموکریسی تلنگانہ کے ذمہ داروں سے بھی مشاور ت کی ہے تاکہ زمینی حقائق سے آگہی حاصل کی جاسکے۔ جماعت اسلامی کے وفود نے انتخابات کا اعلامیہ جاری کئے جانے کے بعد ریاست تلنگانہ میں سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے اپنے مطالبات اور شکایات سے واقف کروایا تھا اس کے بعد حلقہ واری اساس پر جاری سروے کے سلسلہ میں رپورٹ تیار کرتے ہوئے امیدواروں کی تائید کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔جماعت اسلامی نے شہر حیدرآباد کے حلقہ جات اسمبلی ملک پیٹ‘ چارمینار‘ چندرائن گٹہ‘ کاروان ‘ نامپلی ‘ یاقوت پورہ اور بہادرپورہ میں مجلس کی تائید کا اعلان کیا ہے جبکہ حلقہ جات اسمبلی جوبلی ہلز‘ ملکا جگری‘ وغیرہ سے کانگریس کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں شریک ذمہ داروں نے بتایا کہ حلقہ واری اساس پر سروے اور امیدواروں کی صلاحیت اور ان کے کردار کو نظر میں رکھتے ہوئے ان کی تائید کا فیصلہ کیاگیا ہے اور اس سروے کے دوران اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ کس حلقہ میں کونسے امیدوار کو عوامی تائید حاصل ہورہی ہے۔ جماعت اسلامی نے عامۃ المسلمین سے اپیل کیا کہ وہ صد فیصد اپنے ووٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں۔