جمعیۃ العلماء ہند کی کانگریس کو مکمل تائید

   

حیدرآباد۔22۔نومبر(سیاست نیوز) جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش نے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں مکمل طور پر کانگریس کی تائید کا فیصلہ کیا ہے اور کانگریس کی جانب سے جاری کئے گئے انتخابی منشور کا خیر مقدم کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کھل کر کانگریس کی حمایت کریں اور کانگریس کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش کی زیر صدارت منعقدہ ایک اجلاس میں ملک و ریاست کے حالات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ملک کی سیاسی صورتحال کے متعلق آگہی حاصل کی گئی اور سال 2024 میں مجوزہ پارلیمانی انتخابات میں سیکولر قوتوں کو مستحکم و مضبوط کرنے کی حکمت عملی کے طور پر ابھی سے کوششوں کے آغاز کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ علماء اکرام کے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حافظ پیر شبیر احمد نے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور سیکولر ازم کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ سیکولر کردار کی حامل سیاسی جماعتوں اور اس کے امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے۔جمعیۃ علماء نے کانگریس کی جانب سے منشور میں جمعیۃ کے مطالبات کو شامل کئے جانے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ کانگریس نے وعدہ کرلیا ہے تو اس پر عمل آوری بھی اسے کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوئے کروائی جائے گی۔ جمعیۃ علماء کے اس اجلاس میں ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاع سے علماء اکرام شریک تھے جنہیں صدر جمعیۃ نے اس بات کی تاکید کی کہ وہ فسطائی قوتوں کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے کسی بھی طرح کی غفلت کا شکار ہونے کے بجائے کانگریس کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس کے امیدواروں کو اپنے مسائل سے واقف کروائیں اور انہیں کامیاب کروانے کے لئے کوشش کریں۔ جمعیۃ علماء نے کہا کہ کانگریس کی 70 سالہ تاریخ ہے اور کانگریس نے کبھی سیکولر ازم پر کسی طرح کی کوئی مفاہمت نہیں کی ہے اور اس مرتبہ ریاست تلنگانہ میں انتخابات کے دوران جو منصوبہ اور منشور تیار کیا گیا ہے وہ امت مسلمہ کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے علاوہ ان کی مجموعی ترقی کا ضامن ہے اسی لئے جمعیۃ علماء نے کانگریس کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔صدر جمعیۃ نے تلنگانہ میں مساجد کی شہادت ‘ آلیر انکاؤنٹر ‘ پولیس حراست کے دوران عبدالقدیر خان کی ہلاکت کے علاوہ دیگر امور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں برسراقتدار بھارت راشٹرسمیتی مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوچکی ہے اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے اقلیتی طبقہ کی تعلیمی ترقی کے لئے اقلیتی اقامتی اسکولوں کے جو دعوے کئے جا رہے ہیں ان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اسکولوں سے صرف مسلم طلبہ استفادہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ زائد از 30 فیصد دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو ان اسکولوں میں داخلہ فراہم کیاگیا ہے اور اس کے علاوہ ان اسکولوں میں 95 فیصد تدریسی عملہ غیر اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت راشٹرسمیتی کے دور اقتدار میں حکومت تلنگانہ کی راست نگرانی میں دھرانی پورٹل کے ذریعہ ریاست میں اوقافی جائیدادوں کو تباہ کیا ہے۔ ان فسطائی اور نام نہاد اقلیتوں کی ہمدرد سیاسی جماعتوں کے بجائے مسلمانوں کو اپنے حقیقی ہمدردوں کی پہچان کے ذریعہ ان کی کامیابی کے لئے کوشش کرنی چاہئے ۔ جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش نے ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ریاست بھر میں 30نومبر کو زیادہ سے زیادہ رائے دہی میں حصہ لیتے ہوئے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کریں اور ملک و ریاست میں جمہوریت کے تحفظ اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے ووٹ کا استعمال کریں۔اس اجلاس میں ریاست کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے ضلعی صدور و ذمہ داران موجود تھے ۔