جموں میں بھارت بند کے دوران احتجاجی ریالیاں

   

جموں:مرکزی حکومت کے تین زراعتی اصلاحات کے قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاجوں کی لہر منگل کے روز جموں بھی پہنچ گئی۔کسان تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے دی جانے والی ‘بھارت بند’ کال کے پیش نظر جہاں منگل کے روز جموں میں کسانوں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں وہیں سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر غائب رہا۔ تاہم نجی ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل جاری رہی اور بازاروں میں دکان بھی کھلے ہی دیکھے گئے ۔بتادیں کہ آل جموں و کشمیر ٹرانسپورٹرس ایسو سی ایشن نے اس ‘بھارت بند’ کال کی حمایت کی تھی۔جموں کے دگیانہ علاقے میں لوگوں نے ایک احتجاجی ریلی نکالی جس سے جموں – پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر کچھ وقت کے لئے ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل متاثر رہی۔احتجاجی ‘کالے قوانین کو واپس لو’ کی جم کر نعرہ بازی کرتے تھے اور انہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈس بھی اٹھا رکھے تھے ۔ایک احتجاجی نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کالے قوانین کو واپس نہیں لیا گیا تو جموں سے بھی کسانوں کا ایک جھتہ دلی روانہ ہوگا۔