سرینگر: جموں و کشمیر حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران آکسیجن کی پیداواری صلاحیت میں تین گنا اضافہ کر دیا ہے ۔حکومت کے مطابق یکم اپریل کو جہاں اس یونین ٹریٹری میں آکسیجن کی پیدواری صلاحیت 15 ہزار ایل پی ایم تھی وہیں اب نئے پلانٹوں کی تنصیب سے یہ صلاحیت 50 ہزار ایل پی ایم تک پہنچا دی گئی ہے ۔محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر منگل کو ایک ٹویٹ میں کہا گیا: ‘جموں و کشمیر میں یکم اپریل 2021 سے آکسیجن کی پیداواری صلاحیت میں تین گنا اضافہ ہوا ہے ۔ یکم اپریل کو آکسیجن کی پیداواری صلاحیت 15 ہزار ایل پی ایم تھی۔ نئے آکسیجن پلانٹوں کی تنصیب سے یہ صلاحیت 17 اپریل کو بڑھ کر 50 ہزار ایل پی ایم تک پہنچ گئی ہے ‘۔بتا دیں کہ انڈین ایئر فورس نے پیر کے روز جرمنی کے شہر میونخ سے 7 جدید ترین آکسیجن جنریشن پلانٹوں کو ایئر لفٹ کر کے سری نگر پہنچا دیا۔نئے آکسیجن پلانٹوں میں پانچ 1000 ایل پی ایم کے ، ایک 1500 اور ایک 600 ایل پی ایم کی پیدواری صلاحیت والا ہے ۔ ان کی بدولت پہلے سے موجود صلاحیت میں مزید 7100 ایل پی ایم کا اضافہ ہوگا۔لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے کہا ہے : ‘مجھے امید ہے کہ اگلے تین دنوں کے اندر ان آکسیجن پلانٹس کو نصب کر کے چالو کیا جائے گا’۔قبل ازیں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ‘عوام کی آواز’ کے دوران کہا تھا کہ اس یونین ٹریٹری میں اگلے چھ ماہ کے دوران مزید 34 آکسیجن جنریشن پلانٹ نصب کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا تھا: ‘آکسیجن اور دوائوں کی کمی کا سامنا نہ ہو اس کے لئے انتظامیہ موثر اقدام اٹھا رہی ہیں۔ آج جموں و کشمیر کے ہسپتالوں میں 47 آکسیجن جنریشن پلانٹ آپریشنل ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی سے کچھ اور پلانٹ آ رہے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ مئی میں یہ پلانٹ چالو ہو جائیں گے ‘۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘اگلے چھ ماہ میں مزید 34 پلانٹ نصب کئے جائیں اس کی تیاری بھی کی جا رہی ہے ۔ جموں اور سری نگر میں آکسیجن وار روم بھی اچھے سے کام کر رہے ہیں’۔
سرینگر میں سکیورٹی مزید سخت، جگہ جگہ تلاشیاں
سرینگر: کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کے بیان، کہ سری نگر میں پانچ جنگجو سرگرم ہیں جن کی تلاش جاری ہے ، کے ایک روز شہر کے سول لائنز علاقوں بشمول تجارتی مرکز لالچوک میں منگل کو سی آر پی ایف اہلکار نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور عام شہریوں کی تلاشی لیتے ہوئے نظر آئے ۔سرکاری ذرائع کے مطابق سری نگر کے دوسرے حصوں میں بھی سی آر پی ایف اہلکار گاڑیوں خاص کر دو پہیہ والی گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں تاکہ جنگجوؤں کے کسی بھی منصوبے کو ناکام بنایا جا سکے ۔بتا دیں کہ سری نگر کے مضافاتی علاقہ کھنموہ میں پیر کو سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان ہونے والے ایک مسلح تصادم میں ‘البدر’ نامی تنظیم سے وابستہ 2 مقامی جنگجو مارے گئے ۔جنگجوئوں کی ہلاکت کے تناظر میں آئی جی پی وجے کمار نے کہا ہے کہ سری نگر میں ابھی بھی پانچ جنگجو سرگرم ہیں جن کی تلاش جاری ہے ۔یو این آئی اردو کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ شہر کے تجارتی مرکز لالچوک میں منگل کو سی آر پی ایف اہلکار پرائیویٹ گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کو روکا جا رہا تھا اور ان میں سوار افراد کو آگے جانے سے قبل پوچھ تاچھ کی جاتی تھی اور ان کے شناختی کارڈ بھی چیک کئے جاتے تھے۔
موصوف نے بتایا کہ دو پہیہ والی گاڑیوں کو بھی روکا جا رہا تھا اور ان پر سوار مسافروں سے پوچھ تاچھ کی جا رہی تھی۔انہوں نے کہا: ‘یہاں ایسا شاذ ونادر ہی یکھنے کو ملتا ہے کہ سی آر پی ایف اہلکار، مقامی پولیس کے بغیر ہی گاڑیوں کی تلاشی کر رہے ہوں۔ چونکہ کورونا کرفیو نافذ ہے اس وجہ سے بہت کم گاڑیاں سڑکوں پر نظر آ رہی ہیں اور سی آر پی ایف اہلکاروں کو ان کی تلاشی لینے میں کوئی دقت نہیں آ رہی ہے ‘۔عینی شاہدین کے مطابق گاڑیوں کی تلاشی لینے کے علاوہ بعض راہگیروں کو بھی روک کر ان کی جامہ تلاشی لی جا رہی تھی۔