تین سابق چیف منسٹرس ہنوز حراست میں، بیرون ریاست ملک کی مختلف جیلوں کو منتقل
سرینگر ۔ 10 ۔ ا کتوبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر انتظامیہ نے جمعرات کے دن تین سیاستدانوں کو رہا کردیا جو 5 اگست سے اپنی قیامگاہوں پر نظربند تھے کیونکہ انہوں نے ریاست کے خصوصی موقف کو جو دستور ہندکی دفعہ 370 کے تحت اس کو عطا تھا، اس کی تنسیخ کی مخالفت کی تھی ۔ یاور میر ، نور محمد اور شعیب لون کو مختلف وجوہات کی بناء پر رہا کیا گیا ہے۔ سرکاری عہدیداروں نے ان کی حراست ختم کردینے کی وجوہات تفصیل
سے بیان کرتے ہوئے یہ اطلاع دی۔ محروس افراد میں 3 سابق چیف منسٹرس فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی شامل ہیں۔ 250 سے زیادہ افراد جموں و کشمیر کے باہر واقع جیلوں کو منتقل کردیئے گئے۔ فاروق عبداللہ کو بعد میں گرفتار کیا گیا ۔ ان کی گرفتاری سخت گیر قانون قومی سلامتی کے تحت عمل میں آئی جبکہ دیگر سیاستدانوں کو زیادہ تر مختلف فوجداری دفعات کے تحت حراست میں لیا گیا۔ سابق پی ڈی اے رکن اسمبلی لون نے کانگریس کے ٹکٹ پر شمالی کشمیر میں مقابلہ کیا تھا اور ناکام رہے تھے۔ نور محمد نیشنل کانفرنس کے ایک کارکن تھے جنہوں نے پارٹی کے عسکریت پسندی سے متاثرہ باٹامالو علاقہ سے جو شہر سرینگر میں واقع ہے کامیابی حاصل کی تھی۔ اپنی رہائی سے قبل انہوں نے ایک بانڈ تحریر کیا کہ وہ امن اور اچھا رویہ برقرار رکھیں گے۔