مرکزی حکومت کے احکام۔آرٹیکل 370 کی برخاستگی کے بعد بڑا فیصلہ
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقہ جموں وکشمیر سے 10,000 پیرا ملٹری فورسز کو واپس بلانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ افسران نے آج یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کے ذریعہ یونین ٹیریٹری میں مرکزی مسلح دستوں کی تعیناتی کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ جملہ 100 سی اے پی ایف کی کمپنیوں کو فوری اثر کے ساتھ واپس بلانے کا حکم ملا ہے۔ ان کمپنیوں کی گزشتہ سال آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے سے پہلے جموں وکشمیر میں تعیناتی کی گئی تھی۔ اب ان کمپنیوں کو واپس ان کے ’’بیس لوکیشن‘‘ پر بھیجا جائے گا۔ مرکزی حکومت کے احکامات کے مطابق، اس ہفتے تک سنٹرل ریزرو پولیس فورس کی جملہ 40کمپنیاں اور سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورسیز، بارڈرسیکورٹی پرسونل اور آرمڈ بارڈر فورس کی 20 کمپنیاں جموں وکشمیر سے واپس بلائی جائیں گی۔ ایک سی اے پی ایف کمپنی میں تقریباً 100 اہلکار دستیاب رہتے ہیں۔ وزارت داخلہ نے اسی سال مئی میں مرکز کے زیر انتظام ریاست سے تقریباً 10 سی اے پی ایف کمپنیوں کو واپس بلا لیا تھا۔ آج کے فیصلہ کے بعد کشمیر وادی میں سی آر پی ایف کے پاس تقریباً 60 بٹالین (ہر بٹالین میں تقریباً 1,000 پرسونل) کی طاقت ہوگی جبکہ سی اے پی ایف کی بہت کم یونٹ ہو گی۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے گزشتہ سال 5 اگست کو جموں وکشمیر سے ریاست کا خصوصی درجہ واپس لے لیا تھا۔