گپکار اتحاد کو 20 کے منجملہ 13 اضلاع میں کامیابی ۔بی جے پی کی 6 اضلاع میں جیت
سرینگر : جموں و کشمیر میں گذشتہ سال دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پہلی بار منعقد کئے گئے مقامی انتخابات میں فاروق عبداللہ کی قیادت والے گپکار اتحاد کو بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی ۔ جموں و کشمیر کے 20 اضلاع میں منعقد کئے گئے ڈی ڈی سی انتخابات میں سات پارٹیوں کے گپکار اتحاد کو 13 اضلاع میں کامیابی حاصل ہوئی جبکہ جموں میں بی جے پی کو 6 اضلاع میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ گپکار اعلامیہ کے تحت عوامی اتحاد جس میں فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی بھی شامل ہیں ، کو زائد از 100 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی لیکن بی جے پی کی خاصیت یہ رہی کہ یہ واحد اکثریتی پارٹی کے طور پر 74 نشستوں کے ساتھ کامیاب رہی جبکہ کانگریس نے 26نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔ رائے دہی کا انعقاد 280 نشستوں کیلئے کیا گیا تھا جبکہ صرف دو نشستوں کے سوائے تمام نتائج کا اعلان کیا جاچکا ہے ۔ کشمیر میں فاروق عبداللہ کی قیادت والے اتحاد نے 72 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ بی جے پی کو صرف تین نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ گپکار اتحاد جہاں نو ڈسٹرکٹ کونسلوں کا چارج سنبھالے گا وہیں سرینگر ڈسٹرکٹ کا فیصلہ ہنوز غیر فیصلہ کن ہے کیونکہ وہاں اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ انتخابات جیتنے والے آزاد امیدواروں کا کس طرف جھکاؤ ہے ۔ ایسے آزاد امیدوار جنہوں نے کامیابی حاصل کی ہے ان کی تعداد 49 ہے، جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ان کا موقف کانگریس اور پی ڈی پی دونوں سے بہتر ہے ۔ جموں صوبہ میں بی جے پی نے 71 نشستوں پر قبضہ کیا ہے جن میں جموں ، اُدھم پور ، سامبا، کتھوا ، ریاسی اور ڈوڈہ شامل ہیں جبکہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے 45 نشستوں پر قبضہ کیا جن میں پونچھ ، راجوری ، کشتوار اور رام بان ڈسٹرکٹس بھی شامل ہیں ۔ اس دوران کشمیر میں پہلی بار فتح حاصل کرنے کے بعد بی جے پی نے کہا کہ اب وادی میں بھی کنول کا پھول کھل رہا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ کشمیر میں جو علاقے دہشت گردی کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں، وہاں رائے دہندوں کا تناسب گذشتہ انتخابات کے مقابلہ انتہائی اچھا رہا ۔ اس موقع پر عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈی ڈی سی کے نتائج سے یہ ظاہر ہوگیا کہ عوام نے مرکزی حکومت کے کشمیر کے خصوصی درجہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے فیصلہ کو مسترد کردیا ہے ۔ عمر عبداللہ نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں بی جے پی کے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد رال ٹپکتی نظرآرہی ہے جبکہ وہ ( بی جے پی) یہ بھول گئی کہ جموں میں گپکار اتحاد نے 35 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ یاد رہے کہ ڈسٹرکٹ کونسلوں کو ترقیاتی پراجکٹس کے لئے مرکز سے راست طور پر فنڈنگ کی جائے گی ۔ اب جبکہ جموں و کشمیر میں کوئی اسمبلی ہی نہیں ہے تو ڈی ڈی سیز عوام اور حکومت کے درمیان رابطہ کا کام کریں گی اور کونسل کے ہر صدرنشین کو ایک جونیئر وزیر کا درجہ حاصل ہوگا ۔