جنرل نروا نے کے حوالے سے راہول نے چین کا مسئلہ پھر اٹھایا

   

لوک سبھا میں شدید ہنگامہ، وزیر پارلیمانی امور کی مداخلت ، اپوزیشن لیڈر اپنے موقف پر برقرار

نئی دہلی، 03 فروری (یواین آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈرراہول گاندھی نے سابق فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروا نے کی ایک کتاب میں دیے گئے حقائق کی بنیاد پر چین کا مسئلہ اٹھایا، جس پر منگل کو پھر شدید ہنگامہ ہوا اور صدارت کرنے والے کرشنا پرساد تینیٹی کو ایوان کی کارروائی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ کارروائی دو بار ملتوی ہونے کے بعد جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا اور صدر کے خطاب پر شکریہ کی بحث کے لیے اپوزیشن لیڈر کا نام پکارا گیا تو راہول گاندھی نے متعلقہ دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے اور چین-ہند سرحد کا ذکر شروع کیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو اسی نکتے پر دوبارہ بات نہیں کرنی چاہیے جس پر اسپیکر پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں۔ گاندھی نے کہا کہ وہ کتاب کے حقائق کے ساتھ ثبوت پیش کر چکے ہیں، اس لیے انہیں بولنے کی اجازت دی جانی چاہیے ۔ پریذائیڈنگ افسر نے کہا کہ اسپیکر پہلے ہی اس معاملے پر ہدایت دے چکے ہیں اور اپوزیشن لیڈر کو اسی کے مطابق بات رکھنی ہوگی۔ مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ وہ اپوزیشن لیڈر ہیں اور انہیں اپنی بات رکھنے کا حق ہے ، اس کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کا مسئلہ آج پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور صدر کے خطاب پر شکریہ کی بحث میں اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جب انہوں نے پھر اسی موضوع پر بات شروع کی تو ایوان میں شدید ہنگامہ ہو گیا۔ پریذائیڈنگ افسر نے بار بار اپیل کی لیکن اپوزیشن لیڈر اپنی بات پر قائم رہے ۔ اس کے بعد انہوں نے سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس اور دراوڑ منیترا کڑگم کے اراکین کو بولنے کے لیے پکارا لیکن کوئی نہیں اٹھا۔ آخرکار انہوں نے تلگو دیشم پارٹی کے جی ایم ہریش بالایوگی کو بولنے کے لیے کہا، جنہوں نے شور شرابے کے درمیان اپنی بات شروع کی لیکن کچھ سنائی نہ دیا۔ ہنگامہ بڑھنے پر کارروائی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

اپوزیشن لیڈر کو بولنے سے روکنا جمہوری روایات پر ضرب، اسپیکر کو راہول کا خط
نئی دہلی، 3 فروری (یو این آئی) لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے منگل کے روز لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر کہا کہ صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران انہیں بولنے سے روکنا تشویشناک اور جمہوریت کی روایات پر کاری ضرب ہے ۔ مسٹر راہل گاندھی نے اپنے خط میں کہا کہ انہوں نے اس حقیقت کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے ایوان کے فلور پر دستاویزات پیش کیں جن پر انہیں پیر کے روز صدر جمہوریہ کے خطاب پر بحث کے دوران بولنے سے روک دیا گیا۔ انہوں نے لکھا، “آج، میں نے اپنی گفتگو دوبارہ شروع کی اور جس دستاویز کی تصدیق کے لیے آپ نے مجھے ہدایت دی تھی، اس کی تصدیق کی۔ ایوان کی طویل روایت رہی ہے ، جس میں ایسے معاملات پر سابق اسپیکرز کے فیصلے شامل ہیں۔ ایوان میں کسی دستاویز کا حوالہ دینے والا رکن پیش کردہ حقائق کی تصدیق کرنے کا پابند ہوتا ہے ، اور یہ عمل مکمل ہونے کے بعد، اسپیکر اس رکن کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ اسے پیش کرے ، جس پر جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور پھر اسپیکر کا کردار ختم ہو جاتا ہے ۔ راہول گاندھی نے مزید لکھاکہ مجھے آج لوک سبھا میں بولنے سے روکنا نہ صرف اس روایت کی خلاف ورزی ہے ، بلکہ یہ سنگین خدشات بھی پیدا کرتا ہے۔
کہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ، مجھے جان بوجھ کر قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر بولنے سے روکا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی صدر جمہوریہ کے خطاب کا اہم حصہ تھا، جس پر پارلیمنٹ میں بحث کی ضرورت ہے ۔انہوں نے لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر درخواست کی کہ “ایوان کے غیر جانبدار نگران کے طور پر، یہ آپ کی آئینی اور پارلیمانی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر رکن، خاص طور پر حزب اختلاف کے اراکین کے حقوق کا تحفظ کریں۔ قائد حزب اختلاف اور ہر رکن کا بولنے کا حق ہماری جمہوریت کی بنیاد ہے اور ان حقوق کے استعمال کو روکنے سے غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار اسپیکر کو پارلیمنٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ مجبور کیا گیا ہے ۔ حکومت، اپوزیشن لیڈر کو صدر جمہوریہ کے خطاب کے دوران بولنے سے روکنا جمہوریت پر دھبہ ہے اور میں اس پر اپنا سخت اعتراض درج کرتا ہوں۔