جنسی ہراسانی معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش

   

بھینسہ میں حالات کو بگاڑنے فرقہ پرستوں کی کوشش کو پولیس نے ناکام بنادیا
بھینسہ : بھینسہ میں فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے شہر کے حالات کو بگاڑنے کی پھر ایک بار کوشش کی گلی لیکن پولیس نے اسے نا کام بنادیا۔ تفصیلات کے بموجب بھینسہ گورنمنٹ ایریا ہاسپٹل میں خون کی جانچ لیاپ ٹیکنیشن کے کمرے میں تین عارضی ملازمین ہاتھ سے خون نکالنے کے دوران جنسی زیادتی کی کوشش کرتے ہوئے ہاتھ اور مْنہ کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ یہ بیان متاثرہ مسلم نوجوان خاتون نے میڈیا کے نمائندوں کے سامنے دیا اور بتایا کہ لیاب کے کمرے سے اپنی والدہ کو پکارتے ہوئے باہر نکل کر ڈر و خوف کے عالم میں اپنے بھائی کو فون کے ذریعہ اطلاع دی جس پر متاثرہ کے بھائی نے برہمی کے عالم مذکورہ ٹیکنیشن پر حملہ کردیا جس کے فوری بعد بی جے پی ، ہندوواہنی دیگر تنظیموں نے گورنمنٹ ہاسپٹل پہنچ کر حملہ کی مذمت کرتے ہوئے بھینسہ بس اسٹانڈ شاہراہ پر گورنمنٹ ایریا ہاسپٹل کے ڈاکٹرس ، مستقل اور عارضی ملازمین ، نرسیس ، لیاب ٹیکنیشنس و دیگر کے ہمراہ راستہ روکو احتجاج منظم کیا اور فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی۔ جسے بھینسہ پولیس بالخصوص ٹاؤن سرکل انسپکٹر پراوین کمار اور رورل سرکل انسپکٹر چندرشیکھر، سب انسپکٹران وکرم ، شیوا ، درشن سرینواس ، سریکانت (رورل) و دیگر نے ناکام بناتے ہوئے چند بی جے پی اور ہندوواہنی قائدین کو احتیاطی طور پر گرفتار کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا جبکہ سرکاری دواخانہ کا عملہ خدمات کا بائیکاٹ کرکے امبیڈکر مجسمہ کے سامنے احتجاج پر بیٹھ کر تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ شروع کردیا۔ اس ضمن میں ایریا ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر کاشی ناتھ کو یادداشت بھی پیش کی جسے یقینی بنانے اور ایریا ہاسپٹل میں پولیس آوٹ پوسٹ سنٹر کے قیام کے لئے اعلٰی حکام کو متوجہ کروانے کا ایریا ہاسپٹل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر کاشی ناتھ نے میڈیا کو بیان دیا۔ جس پر احتجاج ختم کردیا گیا۔ متاثرہ لڑکی کی والدہ غوثیہ بیگم 43 سالہ اویسی نگر بھینسہ کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرواتے ہوئے بتایا کہ ان کی لڑکی جو مہاراشٹرا موضع شیونی سسرال میں مقیم ہے اور آٹھ دن قبل طبیعت خراب ہونے پر بھینسہ گورنمنٹ ایریا ہاسپٹل میں تشخیص کی جارہی ہے اور خون کی جانچ کے لئے جانے پر تین اکثریتی طبقے کے نوجوان لڑکے لیاپ کے کمرے میں اکیلی لڑکی کو لے گئے اور مجھے باہر ہی روک دیا کچھ دیر میں لڑکی چیخ و پکار کرتے ہوئے ڈر و خوف میں مبتلا ہوگئی جس کی گورنمنٹ ایریا ہاسپٹل میں تشخیص جاری ہے۔ متاثرہ خاندان کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروانے کے لئے بھینسہ بلدیہ نائب صدرنشین محمد جابر احمد نے مسلم اراکین بلدیہ کی ایک ٹیم جن میں فیض اللہ خان ، عبدالماجد نمائندہ کونسلر ، عبدالابراہیم بلڈر معاون رکن بلدیہ و دیگر کو پولیس اسٹیشن روانہ کیا جنہوں نے متاثرہ خاندان کی رہنمائی کی۔ متاثرہ نوجوان خاتون نے بیان کے دوران اس بات خلاصہ کیا کہ جنسی زیادتی کے بعد گورنمنٹ ایریا ہاسپٹل کے ہی ایک ڈاکٹر نے تشخیص کے دوران واقعہ پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایریا ہاسپٹل میں سیاسی قائدین کی جانب سے سفارش کرتے ہوئے نااہل اور ناکارہ گندی ذہنیت کے افراد کو عارضی ملازمت پر تقرر کے لئے نمائندگیاں کی جارہی ہیں جس کی وجہ شعبہ طب بدنام ہورہا ہے۔ اس واقعہ کے بعد بھینسہ میں زبردست افواہوں کا بازار گرم ہوگیا لیکن بھینسہ پولیس نے متحرک انداز میں اپنی خدمات کو انجام دیتے ہوئے حالات کو قابو میں کرلیا۔