بیروت ۔ 3 اپریل (ایجنسیز) لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ملک کے جنوبی حصے میں زمینی پیش قدمی کی کوششوں کے دوران گوریلا جنگ کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ دوسری جانب، اس بحران کو حل کرنے کیلئے سفارتی کوششیں تاحال مختلف رکاوٹوں کا شکار ہیں۔آج جمعہ کی صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان میں کفرا اور صربین کے درمیانی علاقے کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں ایک گھر تباہ ہوا اور قریب کھڑی ایمبولینس میں آگ لگ گئی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ برعشیت اور صریفا کے قصبوں پر بھی بم باری کی گئی۔ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹروں نے البیاضہ کے ساحلی علاقوں پر مشین گنوں سے فائرنگ کی اور راکٹ داغے۔گذشتہ رات سے اب تک بنت جب?ل، حان?ن، کون?ن اور الطیری کے قصبوں پر بھی شدید فضائی حملے کیے گئے، جبکہ اسرائیلی توپ خانے نے برعشیت کے مشرقی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ عیتا الشعب میں اسرائیلی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے وہاں موجود باقی ماندہ گھروں کو دھماکوں سے اڑا دیا۔ ادھر بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (ضاحیہ) کیلئے اسرائیلی فوج نے انخلاء کے تازہ احکامات جاری کر دیے ہیں۔ لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے شروع ہونے والی اس جارحیت میں اب تک 1,345 افراد شہید اور 4,040 زخمی ہو چکے ہیں۔ لبنانی ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کی مدت میں ممکنہ اضافے کے اثرات لبنان پر بھی مرتب ہوں گے، جس سے بڑے پیمانے پر آبادی کے انخلاء اور سکیورٹی و معاشی بحران مزید سنگین ہونے کا خطرہ ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے فوجی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ تنظیم کی کارکردگی اور حوصلے پست ہو رہے ہیں اور قیادت کا زمینی کارکنوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ تاہم اسرائیلی اخبار ‘ہآرتز’ نے اس کے برعکس صورتحال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ زمینی فوج صرف گھروں کو تباہ کرنے اور پروپیگنڈے تک محدود ہے، جبکہ حزب اللہ تنظیم گوریلا جنگ لڑ رہی ہے۔ ایک اسرائیلی افسر نے حزب اللہ تنظیم کے جانی نقصان کے دعوؤں پر شک ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج مستقل قبضے کے بجائے متحرک کنٹرول کو ترجیح دے رہی ہے۔