سیول: جنوبی کوریا میں مصنوعی ذہانت پر مبنی انسان نما مخلوق نے یونیورسٹیوں میں طالب علم کے طور پر خود کا اندراج کرا رکھا ہے، بڑی کمپنیوں میں انٹرن شپ کر رہی ہیں اور لائیو ٹیلی ویڑن پروگراموں میں باقاعدگی سے نظر آ رہی ہیں۔اس کا چہرہ ڈیپ فیک ہے، جسم اْسی قسم کے خد و خال کے حامل اداکاروں سے ملتا جلتا ہے۔ لیکن وہ گاتی ہے، خبریں پڑھتی ہے، اور ٹی وی پر لگژری کپڑے بیچتی ہے کیونکہ AI روبوٹ جنوبی کوریا میں معاشرے کے مرکزی دھارے کا حصہ بن چْکے ہیں۔جنوبی کوریا کے سب سے زیادہ فعال ورچوئل انسانوں میں سے ایک Zaein سے ملیں، جسے ایک مصنوعی ذہانت کی کمپنی Pulse9 نے بنایا ہے۔ یہ کمپنی کارپوریٹ خیالات کو حقیقت بنانے کا کام انجام دینے کیلئے مصنوعی ذہانت کا ایسا شاہکار تیار کرچْکی ہے جو کمپنی کیلئے ایک کامل ملازم کی حیثیت رکھتا ہے۔