چنائی : بی جے پی اپنے حریفوں کو مختلف طریقوں سے اذیت دیتی ہے۔ دوسری جماعتوں نے بی جے پی پر اپنے سیاستدانوں کو خریدنے کا الزام لگایا ہے۔ اس نے راہول گاندھی کو پارلیمنٹ سے نااہل قرار دے دیا۔ اس کے علاوہ، بی جے پی اپنے مقرر کردہ گورنروں کو ان ریاستوں کو مفلوج کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے جہاںوہ نہیں ہے۔ اپنے حریفوں کو ہراساں کرنے کیلئے ای لی کے استعمال کا الزام بھی لگایا ہے۔ دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ دریں اثنا، ان کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی کے قائدین جن پر مالی اسکامس کا الزام ہے، انہیں کسی قسم کی گرمی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر شمالی ہند میں بی جے پی ایک مضبوط سیاسی قوت بن گئی ہے۔ یہ جنوب میں قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے اور صرف کرناٹک میں کامیاب ہوئی ہے، جہاں مئی میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ لیکن کئی تخمینوں میں بی جے پی کی کارکردگی خراب دکھائی دیتی ہے۔ جنوب میں بی جے پی بہت سے لوگوں کے لیے خطرہ ہے۔ چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن نے بتا یا کہ ان کے پاس ایک نظریہ ہے کہ جنوب یہ پوچھ سکتا ہے کہ وہ دہلی سے آزاد کیوں نہیں ہو سکتا۔پانچ جنوبی ریاستیں، ٹاملناڈو، کیرالا، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور کرناٹک میں ایک مماثلت ہے جس میں شمال سے واضح فرق ہے۔ ان کے اپنے دریائی، لسانی اور نسلی اختلافات ہیں، اور ان ریاستوں کے اندر، ذات پات اور مذہبی تقسیم موجود ہیں، لیکن ان میں ایک اجتماعیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مودی تملناڈو کا دورہ کرتے ہیں تو انہیں انگریزی میں بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک قوم پرست وزیر اعظم کا ہندوستانیوں سے انگریزی میں بات کرنا عجیب لگ سکتا ہے، لیکن انہیں یہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ہندی شمال کی علامت بنی ہوئی ہے۔ روایتی طور پر جنوبی ہند کے سیاست دانوں نے مرکزی حکومت کے اختیارات کو ناپسند کیا ہے لیکن جنوب میں کسی نے حالیہ دنوں میں، ہندوستان سے علیحدگی کی بات نہیں کی اور یہ صرف اس لیے نہیں کہ یہ جرم ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر تین چیزیں ہو جائیں تو یہ بدل سکتا ہے۔ شمال کو چھوڑنے سے جنوب کیا کھوتا ہے؟ایسا مضبوط آدمی ہندو پارٹی کا سربراہ ہو سکتا ہے جو پانچ ریاستوں میں ایک مقبول شخصیت بن سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں جنوبی ہند کے کچھ اداکار رہے ہیں۔
