جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے پائلٹس برطرف

   

تل ابیب : فلسطینی تنظیم حماس کی قید میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے درجنوں پائلٹس کو فورس سے نکالنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر نے چیف آف جنرل اسٹاف کی مکمل منظوری کے ساتھ ان پائلٹس کی برطرفی کی کارروائی کا آغاز کیا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک ہزار سے زائد ریزرو اور ریٹائرڈ فضائی افسران نے ایک مشترکہ خط پر دستخط کیے، جس میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی جنگی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ خط میں کہا گیا کہ غزہ کی جنگ قومی سلامتی کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے جاری ہے جو نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے بلکہ اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے پائلٹس کے مؤقف کو شدید ردعمل کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے اسے قومی مفادات کے خلاف قرار دیا ہے۔ وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ ان پائلٹس کی برطرفی کے فیصلے کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کو اس سے پہلے ہی عوامی سطح پر احتجاج اور سخت تنقید کا سامنا ہے جبکہ اسرائیلی عوام کے علاوہ کئی سابق حکام نے بھی اسرائیلی فوج کے 18 مارچ سے غزہ پر دوبارہ جنگ مسلط کرنے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے نیتن یاہو حکومت کی سیاست کی ضرورت قرار دیا ہے۔