جنگ جاری رہنے تک آبنائے ہرمز میں امن ممکن نہیں: ایران

   

تہران ۔ 10 مارچ (ایجنسیز) ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے رکن علی لاریجانی نے فوجی آپریشنز کے جاری رہنے تک آبنائے ہرمز میں امن کے قیام کو خارج از امکان قرار دے دیا۔ علی لاریجانی نے پیر کے روز ایکس پر عربی زبان میں اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ بعید از قیاس ہے کہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی بھڑکائی ہوئی جنگ کی آگ کے سائے میں آبنائے ہرمز میں کوئی امن قائم ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ ان فریقوں کی منصوبہ بندی ہے جو اس جنگ کی حمایت اور اسے ہوا دینے سے دور نہیں رہے تو امن واپس نہیں آئے گا۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب یورپی کمیشن نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ عالمی معیشت کو کساد بازاری کے جھٹکے سے متنبہ کر رہے ہیں۔ یورپی کمشنر ویلڈس ڈومبرووسکس نے زور دیا کہ اگر جنگ بغیر کسی خاتمے کے جاری رہی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں خلل پڑا یا خلیجی ممالک کی توانائی کی تنصیبات پر حملے ہوئے تو یہ عالمی اور یورپی معیشت کیلئے ایک بڑے معاشی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ایرانی بیان اس وقت بھی سامنے آیا جب فرانسیسی صدر میکرون نے پیر کو واضح کیا کہ پیرس اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کیلئے ایک خالص دفاعی مشن کی تیاری کر رہا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ تنازع کے شدید ترین مرحلے کے خاتمے کے بعد بحری جہازوں کی نگرانی کرے گا۔ میکرون نے قبرص کے دورے کے دوران کہا کہ پیرس اس مشن کے فریم ورک کے تحت بحیرہ احمر میں دو بحری جہاز بھیجے گا جو یورپی یونین نے 2024 میں شروع کیا تھا۔ڈیٹا تجزیہ کرنے والے گروپوں کے مطابق، جب سے ایران نے 28 فروری کو تہران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کیا ہے، آبنائے ہرمز یا اس کے قریب تقریباً 10 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جنگ چھڑنے کے بعد پورے ہفتے جاری رہنے والے ان حملوں کی وجہ سے اس آبنائے سے بحری آمد و رفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے، جو کہ تیل اور دیگر اشیاء￿ کی ترسیل کیلئے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔

آبنائے ہرمزکو لیکر ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کو دھمکی
واشنگٹن ۔ 10 مارچ (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی میں رکاوٹ ڈالی تو امریکہ بھرپور قوت کے ساتھ جواب دے گا۔منگل کے روز ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی نقل و حرکت روکنے کیلئے ایران کی جانب سے اٹھائے گئے کسی بھی قدم کا جواب ایسے امریکی حملوں سے دیا جائے گا جو تہران پر کیے گئے ماضی کے کسی بھی حملے کے مقابلے میں 20 گنا زیادہ سخت ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی روکی تو اس پر موت، آگ اور غضب نازل ہوگا۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ امریکہ ان اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے جنہیں انہوں نے آسانی سے تباہ ہونے والے اہداف قرار دیا، اس کے نتیجہ میں تہران کیلئے بطور ریاست اپنی صلاحیتوں کی دوبارہ تعمیر مشکل ہو سکتی ہے۔امریکی صدر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا ان ممالک کیلئے امریکہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے جو اس اہم سمندری گزرگاہ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جن میں چین بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایسی کوئی کشیدگی پیدا نہ ہو جو اس طرح کے تصادم کا باعث بنے۔اس سے قبل امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے تیل کی سپلائی میں رکاوٹ ڈالی، جس کی قیمتیں مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے بڑھ گئی ہیں۔ تو اس پر بڑا حملہ کیا جائے گا۔ انہوں نے فلوریڈا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ “میں ایک دہشت گرد نظام کو اس بات کی اجازت نہیں دوں گا کہ وہ دنیا کو یرغمال بنائے اور دنیا کو تیل کی سپلائی روکنے کی کوشش کرے۔ اگر ایران نے ایسا کچھ بھی کیا تو اسے کہیں زیادہ شدید ضرب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے منگل کے روز اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کا تعین ایران ہی کرے گا۔ یہ بیان امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی۔