جنگ کا اثر، آر ٹی سی شرحوں میں اضافہ کی تجویز

   

فی کیلو میٹر 40 تا 50 پیسے اضافہ، نئی رپورٹ تیار ۔ مسافرین پرسالانہ 1200 کروڑ روپے کا بوجھ
حیدرآباد۔ 2 مارچ (سیاست نیوز) آر ٹی سی کی شرحوں میں عنقریب اضافہ ہونے والا ہے۔ بس کرایوں میں اضافہ کے لئے حکومت نے پہلے ہی ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔ آر ٹی سی انتظامیہ کی جانب سے گذشتہ سال ڈسمبر میں ہی حکومت کو تجاویز پیش کردی گئی تھیں۔ چیف منسٹر کی منظوری کے بعد ہی بس کرایوں کی شرح میں اضافہ کی تمام تیاریاں کرلی گئی تھیں۔ تاہم تازہ طور پر روسی اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا اثر ایندھن کی قیمتوں پر بھی پڑھنے لگا ہے۔ جس سے آر ٹی سی انتظامیہ اپنی پہلی تیار کردہ تجویز پر دوبارہ نظرثانی کررہی ہے۔ عہدیدار نئی رپورٹ تیار کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ پہلے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق ریاست کے عوام پر سالانہ 850 کروڑ روپے کا بوجھ عائد ہو رہا تھا۔ نئی تیار کردہ رپورٹ سے سالانہ 1200 کروڑ روپے کا بوجھ عائد ہونے کا امکان ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ فی کیلو میٹر 40 تا 50 پیسے اضافہ کرنے کی نئی تجویز تیار کی گئی ہے۔ اس مسئلہ پر حکومت کا ردعمل کیا ہوگا اس کے حساب سے مسافرین پر اضافی بوجھ عائد ہوگا۔ اس معاملے میں آر ٹی سی عہدیداروں کی جانب سے لب کشائی سے گریز کیا جارہا ہے۔ فی الحال آر ٹی سی شدید نقصانات سے دوچار ہے۔ جاریہ مالیاتی سال 2 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس خسارے پر قابو پانے کے لئے گزشتہ سال ماہ ڈسمبر میں آر ٹی سی آرڈینری بس کے کرایہ میں فی کیلو میٹر 25 پیسے ماباقی زمروں کی بسوں پر 30 پیسے اضافہ کرنے کی تجویز تیار کی گئی تھی۔ فی الحال یہ فائل چیف منسٹر کے دفتر میں زیر التواء ہے۔ جنگ کے اثرات ایندھن پر پڑ رہے ہیں۔ آئیل کمپنیوں کی جانب سے آر ٹی سی کو ماہانہ 18 تا 20 کروڑ لیٹر ڈیزل فروخت کیا جاتا ہے۔ ریٹیل کی بہ نسبت 4 روپے کم سے آر ٹی سی کو فی لیٹر ڈیزل دستیاب ہوتا ہے۔ 16 فروری تک آر ٹی سی کو 91 روپے فی لیٹر ڈیزل دستیاب ہو رہا تھا۔ اب 350 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ عائد ہو رہا ہے جس کی وجہ سے آر ٹی سی نے ٹکٹ کی شرحوں میں اضافہ کی نئی تجویز تیار کی۔ ن