جوبلی ہلز ضمنی انتخاب پر حکمراں کانگریس کی خصوصی توجہ

   

ایک ڈیویژن کیلئے دو وزراء کو انچارج بناتے ہوئے انتخابی مہم میں شدت پیدا کرنے کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) حکمران کانگریس پارٹی نے اسمبلی حلقہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب کو وقار کے طور پر تسلیم کیا ہے ۔ جیسے جیسے انتخابی تاریخ قریب آرہی ہے، پارٹی کی جانب سے انتخابی مہم میں مزید شدت پیدا کی جارہی ہے ۔ ابھی تک ضمنی انتخابات کی ذمہ داری تین وزراء کو سونپی گئی تھی۔ آئندہ سے حکومت نے تمام کابینی وزراء کو جوبلی ہلز کے انتخابی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسمبلی حلقہ جوبلی ہلز میں جملہ 7 ڈیویژنس ہیں ، ایک ڈیویژن کے لئے دو منسٹرس کو انتخابی ذمہ داری دی گئی ۔ انہیں انتخابی نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ جن ڈیویژنس کی انہیں ذمہ داری دی گئی ہے ، ان ڈیویژنس میں پارٹی امیدوار نوین یادو کی انتخابی مہم میں شدت پیدا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ساتھ ہی پولنگ بوتھ کیلئے بھی کانگریس کے ارکان اسمبلی ، ارکان پارلیمنٹ اور کارپوریشنس کے چیرمین کو ذمہ دار بنایا گیا ہے ۔ ان کے ساتھ مسلسل ربط میں رہتے ہوئے تال میل کے ذریعہ پارٹی کی انتخابی مہم کو عروج پر پہنچانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یوسف گوڑہ ڈیویژن کیلئے ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی ، پونم پربھاکر ، رحمت نگر ڈیویژن کیلئے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، پی سرینواس ریڈی ، وینگل راؤ نگر ڈیویژن کے لئے ٹی ناگیشور راؤ ، وی سری ہری، سوماجی گوڑہ ڈیویژن کے لئے ڈی سریدھر بابو ، اے لکشمن ، شیخ پیٹ ڈیویژن کیلئے کونڈا سریکھا ، جی ویویک ، ایرہ گڈہ ڈیویژن کے لئے دامودر راج نرسمہا ، جوپلی کرشنا راؤ، بورہ بنڈہ ڈیویژن کیلئے سیتکا کے ساتھ ناگر کرنول کے ایم پی ملو روی کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے ٹورازم پلازا ہوٹل میں پارٹی قائدین کا ایک اہم اجلاس طلب کرتے ہوئے وزراء کو انچارج بنانے کی وضاحت کی ہے ۔ اس موقع پر پارٹی کی قومی انچارج میناکشی نٹراجن بھی موجود تھیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اسمبلی حلقہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخابات میں پارٹی امیدوار نوین یادو کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی تمام ریاستی وزراء کے ساتھ ساتھ ڈیویژن اور بوتھ لیول انچارج کو خصوصی ہدایت دی ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے انتخابی مہم میں حصہ لینے کے بعد حالات پوری طرح کانگریس کے حق میں آجائیں گے اور انہیں یقین ہے کہ پارٹی امیدوار 50 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گا۔2