جوبلی ہلز میں ووٹ کی تقسیم کی سازش کے باوجود اظہرالدین کا موقف مستحکم

   

مثالی حلقہ بنانے کا عزم، پدیاترا کے دوران کانگریس کے حق میں عوام کی تائید
حیدرآباد 23 نومبر (سیاست نیوز) جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ میں اقلیتی رائے دہندوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار ہے اور اگر اقلیتوں کی رائے دہی متحدہ طور پر ہوتی ہے تو روایتی دیگر طبقات کے ووٹس کی مدد سے کانگریس پارٹی کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ کانگریس نے سابق میں خیریت آباد اسمبلی حلقہ کے علاقوں پر مشتمل نئے حلقہ جوبلی ہلز سے پہلی مرتبہ مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین جو اترپردیش میں مرادآباد لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کرچکے ہیں، تلنگانہ میں پہلی مرتبہ اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ کانگریس نے تعلیم یافتہ رائے دہندوں کی اکثریت والے اِس حلقہ سے ہندوستانی کرکٹ اسٹار کو میدان میں اُتارا ہے تاکہ علاقہ کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھ کر اُن کی یکسوئی کرسکے۔ اظہرالدین کی امیدواری کے اعلان کے ساتھ ہی مقامی رائے دہندوں بالخصوص نوجوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی لیکن لمحہ آخر میں مقامی جماعت مجلس نے شیخ پیٹ ڈیویژن کے کارپوریٹر کو امیدوار بناتے ہوئے مسلم ووٹ تقسیم کرنے کی سازش کی ہے۔ مجلسی قیادت کا دعویٰ ہے کہ حلقہ اسمبلی خیریت آباد سے سابق میں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا گیا تھا لیکن مذکورہ امیدواروں کو حاصل شدہ ووٹ کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ مقابلہ سنجیدگی سے نہیں بلکہ کسی ایک پارٹی سے ’’دوستانہ کشتی‘‘ کی طرح تھا۔ اس کے نتیجہ میں مخصوص پارٹی کے امیدوار کو کامیاب بنانے میں مدد کی گئی۔ محمد اظہرالدین کو یقین ہے کہ مسلم رائے دہندے اِس مرتبہ ووٹ تقسیم ہونے نہیں دیں گے اور دیگر طبقات میں کانگریس کے حق میں لہر پائی جاتی ہے۔ محمد اظہرالدین روزانہ عام جلسوں کے بجائے پدیاترا کے ذریعہ رائے دہندوں سے راست ملاقاتیں کررہے ہیں اور علاقہ کی ترقی سے متعلق اپنے منشور سے واقف کرارہے ہیں۔ کانگریس نے عوام کے لئے جن 6 ضمانتوں کا اعلان کیا ہے، عوام میں اِسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ 6 ضمانتوں پر عمل آوری سے کسی مخصوص طبقہ کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ تمام طبقات اور مذاہب کے مستحق افراد اسکیمات کے فوائد سے مستفید ہوپائیں گے۔ محمد اظہرالدین نے مجلس کی جانب سے اُنھیں ناکام سیاستداں قرار دینے کو افسوسناک کہا۔ اُن کا کہنا ہے کہ مجلسی قیادت دراصل کسی مسلمان کو اسمبلی میں دیکھنا نہیں چاہتی۔