اظہرالدین کی وزارت میں شمولیت اور مسلم قبرستان کی حوالگی میں کوئی فرق نہیں
انتخابات کے پیش نظر گمراہی کا چاکلیٹ : محمد مسیح اللہ خان
حیدرآباد۔یکم۔نومبر۔(سیاست نیوز) محمد اظہر الدین کی وزارت اور ایرہ گڈہ میں قبرستان کی حوالگی میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔کانگریس حکومت مسلمانوں کو جوبلی ہلز ضمنی انتخابات کے پیش نظر گمراہ کرتے ہوئے ’’چاکلیٹ ‘‘ دے رہی ہے۔ انتخابات کے لئے اعلامیہ کی اجرائی سے عین قبل ایرہ گڈہ قبرستان کی دیوار کو منہدم کرتے ہوئے کانگریس قائدین نے قبرستان کا مسئلہ حل ہونے کا دعویٰ کیا جو کہ قانونی رسہ کشی کا شکار ہوچکا ہے جبکہ دوران انتخابات محمد اظہر الدین کو ریاستی کابینہ میں شامل کرتے ہوئے مسلمانوں کو راغب کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی بھی ایوان کے رکن نہ ہونے کے سبب 6مہینہ سے زائد وزیر نہیں رہ سکتے ۔ جناب محمد مسیح اللہ خان سابق صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ نے آج انچارج چیف اکزیکیٹیو آفیسر محمد اسداللہ سے ملاقات کرتے ہوئے وقف بورڈ سے فائیلوں کے سرقہ کی اطلاعات کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں یادداشت حوالہ کی اور کہا کہ ریاست میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے عدالتوں میںزیر دوراں مقدمات میں مؤثر پیروی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کانگریس حکومت 7500 مربع گز ایرہ گڈہ قبرستان کی حوالگی کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتی تو کم از کم ’’ادارہ سیاست ‘‘ سے لاوارث نعشوں کو حاصل کرتے ہوئے دیوار کے انہدام کے ساتھ تدفین کو یقینی بناتے تاکہ قبرستان ہونے کی توثیق ہوجاتی لیکن عجلت میں کئے گئے اس فیصلہ کے بعد قبرستان کا معاملہ لیت ولعل کا شکار بن چکا ہے حالانکہ مذکورہ قبرستان گزٹ میں موجود ہے ۔ جس طرح قبرستان کے معاملہ میں مسلمانوں کو دھوکہ دیا گیا ہے اسی طرح اب ریاستی کابینہ میں مسلمان کو شامل کرتے ہوئے دھوکہ دیا جارہا ہے۔ سابق صدرنشین وقف بورڈ نے کہاکہ اگر ریاستی کابینہ میں مسلمان کو شامل کرنے کے لئے کانگریس سنجیدہ ہوتی تو ایسی صورت میں 22ماہ میں زائد از ایک سال تک جناب عامر علی خان رکن قانون ساز کونسل تھے انہیں کابینہ میں شامل کیا جاسکتا تھا لیکن اب اسی زمرہ میں جس میں جناب عامر علی خان رکن قانون سازکونسل تھے محمد اظہر الدین کے نام کی ایم ایل سی کے لئے سفارش کرتے ہوئے انہیں کابینہ میں شامل کیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی مسلم وزیر کی کابینہ میں شمولیت کے معاملہ میں غیر سنجیدگی اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ حلف برداری کے 24 گھنٹے گذرنے کے باوجود بھی انہیں کوئی قلمدان حوالہ نہیں کیاگیا ہے ۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ جوبلی ہلز ضمنی انتخابات میں مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر کانگریس اس طرح کے ہتھکنڈے اختیار کررہی ہے جبکہ مسلمان کانگریس کی دھوکہ دہی سے واقف ہوچکے ہیں۔3