٭ ڈاکٹرس ڈیوٹی پر واپس آجائیں، حکومت مسائل حل کرنے تیار: چیف منسٹر
٭ اسوسی ایشن کے نمائندوں کیساتھ حکومت کی بات چیت ناکام ، جمعرات کی صبح دوبارہ بات چیت
حیدرآباد۔ تنخواہوں میں اضافہ کے مسئلہ پر جونیر ڈاکٹرس کی ایسوسی ایشن نے تلنگانہ میں ہڑتال کا آغاز کردیا ہے ۔گاندھی،عثمانیہ اور دیگر اہم ہاسپٹلس میں خدمات انجام دینے والے 3100 ڈاکٹرس نے خدمات کا بائیکاٹ کیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹرس نے کہا کہ اسٹائی فنڈ کی ادائیگی اور جونیرڈاکٹرس کے دیگر دیرینہ حل طلب مطالبات کی تکمیل کے لئے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت ان کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ حکومت نے مسائل کی یکسوئی کے لئے جونیر ڈاکٹرس اسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ آج بات چیت کی جو ناکام رہی۔ حکومت نے کل صبح دوبارہ بات چیت کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی ہاسپٹل جس کو کوویڈ کے مریضوں کے علاج کا ایک اہم مرکز بنایاگیا ہے کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راجہ راو اور محکمہ صحت کے اعلی عہدیداروں کو مطالبات کے سلسلہ میں میمورنڈم بھی پیش کیاجاچکا ہے ۔اس ہڑتال کے پیش نظر جونیر ڈاکٹرس کے متبادل انتظامات کرنے کی ڈائرکٹوریٹ آف میڈیکل ایجوکیشن رمیش ریڈی نے سرکاری ٹیچنگ ہاسپٹلس اور میڈیکل کالجس کو ہدایت دی ہے۔ ایمرجنسی،کورونا کے متاثرین کی ڈیوٹی کو چھوڑ کر دیگر فرائض کا بائیکاٹ کیاجارہا ہے۔مطالبات کی تکمیل نہ ہونے پر 28مئی سے تمام خدمات روک دینے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ اس ماہ کی دس تاریخ کو جونیر ڈاکٹرس نے حکومت کو ہڑتال کی نوٹس دی تھی اور مطالبہ کیاتھا کہ قبل ازیں تنخواہوں میں اضافہ کا جو وعدہ کیاگیا تھااس وعدہ کو پورا کیاجائے۔ سینئر ر یزڈنٹس، جونیرریزیڈنٹس کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ کا مطالبہ کیا گیا۔دوسری طرف چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جونیئر ڈاکٹرس سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ریاست میں کورونا وباء کی موجودہ صورتحال اور صحت عامہ کے تحفظ کے پیش نظر جونیئر ڈاکٹرس کو ہڑتال سے دستبردار ہوتے ہوئے فوری ڈیوٹی پر واپس ہونا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ حکومت نے کبھی بھی جونیئر ڈاکٹرس اور ان کے مسائل کے ساتھ جانبدارانہ رویہ اختیار نہیں کیا ہے۔ چیف منسٹر نے آج پرگتی بھون میں محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ کورونا کی صورتحال ، ٹیکہ اندازہ پروگرام اور دیگر مسائل پر جائزہ اجلاس طلب کیا ۔ اس موقع پر عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ جونیئر ڈاکٹرس نے اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کا آغاز کیا ہے۔ جونیئر ڈاکٹرس کی جانب سے پیش کردہ مسائل پر چیف منسٹر نے کہا کہ اگر جونیئر ڈاکٹرس کے مطالبات جائز اور منصفانہ ہیں تو حکومت کو انہیں حل کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ جونیئر ڈاکٹرس کے مطالبات کی یکسوئی کریں۔ چیف منسٹر نے سینئر ریسیڈینٹس کے اعزازیہ میں 15 فیصد اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیکل کورس کی تکمیل کے تین سال بعد کووڈ ڈیوٹی انجام دینے والے سینئر ریسیڈنٹس کے مطابق میڈیکل طلبہ کو اعزازیہ کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف منسٹر نے جونیئر ڈاکٹرس اور ان کے افراد خاندان کو نمس میں بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت دی۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ جونیئر ڈاکٹرس کے مطالبہ کے تحت گائیڈ لائینس کے مطابق ایکس گریشیا کی رقم جاری کریں۔ اجلاس میں چیف سکریٹری سومیش کمار سمیت اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔
، چیف منسٹر کے سکریٹری راج شیکھر ریڈی ، پرنسپل سکریٹری ہیلت مرتضیٰ علی رضوی، ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن رمیش ریڈی ، ڈائرکٹر ہیلت سرینواس راؤ اور چیف منسٹر کے او ایس ڈی گنگا دھر اور دیگر عہدیدار شریک تھے ۔