جوڈیشل افسران کی سیکورٹی کی اسٹیٹس رپورٹ طلب

   

دھنباد جج قتل

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جھارکھنڈ کے دھنباد میں ایک جج کے قتل کیس میں جمعہ کو سخت موقف اختیار کرتے ہوئے جوڈیشل افسران کو فراہم کی جانے والی سیکورٹی کے بارے میں اسٹیٹس رپورٹس داخل کرنے کی ریاستوں کو ہدایت دی۔چیف جسٹس این وی رمن اور جسٹس سوریہ کانت کی ڈویژن بنچ نے اس مبینہ قتل کے تناظر میں عدالتوں اور ججوں کی سیکورٹی کے مسئلہ پر ازخود نوٹس لیے گئے معاملے کی سماعت کے دوران ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ جوڈیشل افسران کو دی جانے والی سیکورٹی پر اسٹیٹس رپورٹ داخل کریں۔ڈویژن بینچ نے دھنباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اتم آنند کے مبینہ قتل معاملے کی حال ہی میں تحقیقات شروع کرنے والی سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیااور اگلی سماعت کے لئے نو اگست کی تاریخ مقررکی۔جھارکھنڈ حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ 28 جولائی کے واقعے کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے ۔ اس پر بینچ نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال سے کہا کہ ایسے کئی معاملات ہیں جن میں گینگسٹر اور ہائی پروفائل شخص شامل ہیں اورججوں کودھمکی یا نازیباالفاظ والے پیغام بھیج رہے ہیں۔جسٹس رمن نے کہا کہ ججز کو شکایات درج کرانے کی آزادی نہیں ہے ۔ ایسی شکایتیں درج کی جاتی ہیں تو پولیس یا سی بی آئی عدلیہ کی مددنہیں کرتی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ مسٹر آنند 28 جولائی کو صبح کی سیر پر نکلے تھے ، اسی وقت صدر تھانہ علاقے میں ضلعی عدالت کے قریب رندھیر ورما چوک پر ایک آٹو رکشہ نے انہیں ٹکر مار دی تھی، جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ اس کے بعد عدالت نے چیف سیکریٹری اور پولیس ڈائریکٹر جنرل کے ذریعے جھارکھنڈ حکومت سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کی تھی۔