واشنگٹن : امریکی اٹلانٹک کونسل نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے میں امریکی واپسی مشرق وسطی میں عدم استحکام کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔تناؤ کی سطح کو نئی سطحوں تک پہنچائے گی اور ایٹمی معاملے پر توجہ دینے سے خطے میں جنگ نہیں رکے گی بلکہ اس کو مزید مالی مدد ملے گی۔ اگر بائیڈن معاہدے پر واپس آئے تو ایرانی حکومت کو 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم مل جائے گی۔ایک رپورٹ میں اٹلانٹک کونسل نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی آڈیو ٹیپ کے لیک ہونے سے حالیہ ہفتوں میں ایک سنسنی پھیل گئی تھی۔ اس ٹیپ میں ظریف نے بشار الاسد کی حکومت کیلئے تہران حکومت کی مسلسل حمایت کا حوالہ بھی شامل ہے۔ اس میں یہ حقیقت بھی شامل ہیکہ ایران کی قومی ایئرلائن کمپنی ایران سے اسلحہ اور جنگجو شام منتقل کرنے میں ملوث ہے۔چونکہ بائیڈن انتظامیہ ویانا میں مشترکہ جامع پلان آف ایکشن میں ممکنہ واپسی کیلئے بات چیت کرتی ہے لہٰذا تہران کی اسد حکومت کیلئے حمایت کو میز پر نہیں چھوڑنا چاہیئے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2015 کے ایرانی جوہری معاہدے میں صدر بائیڈن کی غیر مشروط واپسی کے حامیوں نے اکثر یہ استدلال کیا ہے کہ ایسا کرنا مشرق وسطی میں تنازعات اور جنگ کو روکنے کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے بائیڈن پر زور دیا ہیکہ وہ جنگ کو روکنے کیلئے فوری طور پر ’جے سی پی او اے‘ میں واپس آئیں۔