پولیس پر بی جے پی کا دباؤ ، معطلی ختم کرنے کی مساعی ، مسلم نوجوانوں کے خلاف مقدمات سے جگتیال میں بے چینی
حیدرآباد۔12۔مئی (سیاست نیوز) جگتیال میں برقعہ پوش طالبہ اور ان کی والدہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے سب انسپکٹر انیل کمار کی معطلی کے بعد بی جے پی کی جانب سے حکومت پر دباؤ بنایا جارہا ہے کہ معطلی برخواست کی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ نظام آباد کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند اور مقامی بی جے پی قائدین نے ڈائرکٹر جنرل پولیس انجنی کمار سے ربط قائم کرتے ہوئے سب انسپکٹر کی معطلی پر سخت اعتراض کیا۔ اتنا ہی نہیں بعض مقامی کانگریس قائدین بھی سب انسپکٹر کے خلاف کارروائی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ بی جے پی اور دیگر گوشوں سے حکومت اور پولیس پر بڑھتے دباؤ کے دوران پولیس نے غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنے کیلئے سب انسپکٹر کی اہلیہ کی شکایت پر متاثرہ لڑکی شیخ فرح اور ان کی والدہ رضیہ بیگم کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ سب انسپکٹر کی اہلیہ سندھیا نے شکایت کی کہ آر ٹی سی بس میں شیخ فرح اور ان کی والدہ نے گالی گلوج کرتے ہوئے حملہ کیا۔ سندھیا کی شکایت پر پولیس نے جگتیال ون ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں سنگین دفعات 294, 323, 506 اور 34 کے تحت ماں اور بیٹی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سب انسپکٹر کی جانب سے حملہ کا جو ویڈیو سامنے آیا ہے، اس کی بس میں موجود مسافرین نے توثثیق کی جبکہ شیخ فرح اور ان کی والدہ کی جانب سے سندھیا پر حملہ کی توثیق کرنے والا کوئی نہیں لیکن پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی اور ان کی ماں کے خلاف مقدمہ درج کیا تاکہ ان پر مفاہمت کیلئے دباؤ بنایا جائے۔ متاثرہ لڑکی اور ان کی ماں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے خلاف جگتیال کے مسلمانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ کے سی آر کی سیکولر حکومت میں بی جے پی کے دباؤ کے تحت پولیس نے مسلم طالبہ کے خلاف جھوٹی شکایت پر مقدمہ درج کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ پولیس فورس میں زعفرانی ذہنیت رکھنے والے عناصر موجود ہیں۔ حکومت کی جانب سے سب انسپکٹر کی معطلی کے ساتھ ہی بی جے پی اور دیگر زعفرانی تنظیمیں متحرک ہوچکی ہیں۔ سب انسپکٹر پولیس کی کھلے عام فرقہ پرستی کے خلاف احتجاج کرنے والے درجنوں مسلم نوجوانوں کے خلاف جگتیال کے کئی پولیس اسٹیشنوں میں مقدمات درج کئے گئے۔ میٹ پلی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ناظمہ بیگم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ اس خاتون کو مقدمہ میں اہم ملزم بنایا گیا ہے۔ جگتیال ، کورٹلہ اور میٹ پلی پولیس اسٹیشنوں میں خود پولیس عہدیداروں اور ملازمین سے تحریری شکایت حاصل کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کورٹلہ پولیس اسٹیشن میں ہیڈ کانسٹبل جے تروپتی کی شکایت پر 30 احتجاجیوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ جگتیال پولیس اسٹیشن میں سب انسپکٹر ایل رام کی شکایت پر 4 مسلمانوں کے نام ایف آر میں درج کئے گئے اور دیگر نوجوانوں کو شامل کیا گیا۔ میٹ پلی پولیس اسٹیشن میں کانسٹبل بی جناردھن کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی جس میں دو نام شامل کئے گئے اور 6 دیگر افراد لکھا گیا ہے ۔ ڈی سرینواس پولیس کانسٹبل کی شکایت پر چوتھی ایف آئی آر درج کی گئی جس میں مسلم نوجوانوں کے نام شامل ہیں اور 7 دیگر کو ایف آئی آر میں شامل کیا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ جگتیال میں امتناعی احکام نافذ تھے اور احتجاجیوں نے امتناعی احکام کی خلاف ورزی کی ہے۔ پولیس کی جانب سے متاثرہ لڑکی اور احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف مقدمات سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس بی جے پی کے اشارہ پر کام کرکے مسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہے تاکہ وہ آئندہ کسی ناانصافی پر احتجاج کی ہمت نہ کریں۔ مخصوص میڈیا کے ذریعہ معطل سب انسپکٹر کی اہلیہ کا بیان وائرل کیا جارہا ہے جس میں وہ متاثرہ لڑکی اوران کی ماں پر الزامات عائد کر رہی ہیں۔ر