نئی دہلی : سپریم کورٹ کے دوسرے سینئر ترین جج این وی رمن اور آندھراپردیش ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف وزیراعلیٰ وائی ایس جگن موہن ریڈی کے پریس کانفرنس اور خط کے خلاف عدالت عظمیٰ میں پیر کے روز سماعت نہیں ہوسکی، کیونکہ ایک جج نے معاملے کی سماعت سے خود کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔پیشے سے وکیل جی ایس منی اور دودیگر درخواست گزاروں اینٹی کرپشن کونسل آف انڈیا ٹرسٹ اور وکیل سنیل کمار سنگھ کی درخواستیں سماعت کے لئے جیسے ہی جج ادے امیش للت اور جج اشوک بھوشن کے سامنے آئیں، جج للت نے ان کی سماعت کرنے سے معذرت کرلی۔ جج للت نے کہا، ’’مجھے اس کی سماعت میں پریشانی ہے ، میں اس معاملے کو نہیں سن سکتا۔ ایک وکیل کے طورپر، میں نے فریقین کی جانب سے مقدمہ لڑا ہے ۔ ہم ہندوستان کے چیف جسٹس سے مناسب ہدایت لینے اور جلد از جلد مناسب بنچ کے سامنے اسے اندراج کرنے کو رجسٹری سے کہیں گے‘‘ ۔ جی ایس منی نے عدلیہ کی آزادی اور سالمیت کی اہمیت کوواضح کرتے ہوئے موجودہ وزیراعلیٰ کے ریکارڈ طلب کیے ہیں اور یہ اعلان کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس اپنا عہدہ سنبھالنے کا کوئی اختیار نہیں ہے ، کیونکہ وہ اپنے منصب کا غلط استعمال کررہے ہیں۔وکیل آن ریکارڈ مکتی سنگھ کے ذریعہ سے پریکٹسنگ وکیل سنیل کمارسنگھ نے درخواست دائر کر کے ججوں کے خلاف وزیراعلیٰ کے ذریعہ اس طرح پریس کانفرنس کرنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مناسب کارروائی کرنے کے لیے انہیں وجہہ بتاؤ نوٹس جاری کی جانی چاہیے ۔
