جگن موہن ریڈی عوام کی توقعات پر کھرا اترنے میں ناکام: رام موہن رائو

   

تین دارالحکومتوں کے اعلان سے عوام میں بے چینی، کسانوں سے وعدوں کی عدم تکمیل
حیدرآباد۔ 3 جنوری (سیاست نیوز) تلگودیشم کے سابق رکن پارلیمنٹ کے رام موہن رائو نے کہا کہ اقتدار کسی بھی پارٹی کے لیے مستقل نہیں ہوتا۔ آندھراپردیش کے عوام نے چندرا بابو نائیڈو سے بہتر کارکردگی کی امید کے ساتھ جگن موہن ریڈی کو اقتدار حوالے کیا لیکن جگن موہن ریڈی نئے دارالحکومت کے نام پر عوام کے لیے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے رام موہن رائو نے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے انتخابی منشور میں صدر مقام کی تبدیلی کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا تھا۔ ریاست کی تقسیم کے بعد آندھراپردیش کے پہلے چیف منسٹر کی حیثیت سے چندرا بابو نائیڈو نے اسمبلی میں مباحث کے بعد امراوتی کو دارالحکومت بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت قائد اپوزیشن کی حیثیت سے جگن موہن ریڈی نے امراوتی کی تائید کی۔ دارالحکومت کے لیے 30 ہزار ایکڑ اراضی کی ضرورت تھی۔ امراوتی ایک تاریخی حیثیت کی حامل ہے۔ چتور اور سریکاکلم کے لیے بھی یہ مرکزی مقام ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اسمبلی میں تائید کرنے کے بعد اب تبدیلی کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ راجدھانی کی تبدیلی کے درپردہ مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امراوتی کی تعمیر کے سلسلہ میں چندرا بابو نائیڈو پر بدعنوانیوں کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرکز اور ریاستی حکومتوں سے غیر متعلق آٹو موبائل کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس قائدین ان پر بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں جبکہ ان کے چیف منسٹر آج بھی بے قاعدگیوں کے مقدمات میں عدالت کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ عوامی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے جگن موہن ریڈی تین نئے دارالحکومت کے قیام کے اعلان کے ذریعہ عوام میں الجھن پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین دارالحکومتوں کا قیام ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس فیصلے کے خلاف کسان احتجاج کررہے ہیں۔ انتخابات میں کسانوں کے ساتھ وعدے کرتے ہوئے تائید حاصل کی گئی لیکن جگن موہن ریڈی وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوگئے۔